سنتِ اجتہاد
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۱۹
شرعی حکم معلوم کرنا۔
مجتہد کی دو بڑی تقسیم کی گئی ہے۔ مجتہد مقید، مجتہد مطلق۔ مجتہد مقید وہ ہے جو پیش آمدہ حالات میں مروجہ فقہی مسالک میں سے کسی مسالک کا پابند رہ کر فتویٰ دے۔ وہ اپنے اختیار کردہ مسلک سے باہر نہ جائے۔ مثلاً فقہ حنفی میں ایک مجلس کی تین طلاق کو تین مانا جاتا ہے۔ اب مسلک حنفی سے وابستہ مجتہد اسی کی پیروی میں فتویٰ دے گا، وہ کسی حال میں اس سے باہر نہیں جائے گا۔ مجتہد مطلق وہ مجتہد ہے جو کسی مسلک فقہ یا کسی امام کی پیروی نہ کرے۔ بلکہ معاملہ پیش آنے کے بعد براہ راست شرعی دلائل کی روشنی میں از خود مسائل و احکام کا استنباط کرے۔ ان دونوں اصطلاحوں میں مقیداورمطلق کاتعین مسالک فقہ کی نسبت سے ہے۔ یعنی مروجہ مسلک فقہ کا پابند رہ کر مسئلہ بیان کرنے والامجتہدمقیدہے اورمروجہ مسالک فقہ کی پابندی کے بغیر مسئلہ بیان کرنے والا مجتہد مطلق۔
اس کے بعد مزید تدقیق کر کے مجتہد مقید کی کئی قسمیں بنائی گئی ہیں۔ مثلاً مجتہد منتسب مجتہد تخریج، مجتہد ترجیح، مجتہد الفتیا۔ شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی کتاب عقد الجید فی احکام الاجتہاد والتقلید میں مجتہد کی یہ قسمیں بتائی ہیں۔ لیکن اگر تدقیق کا طریقہ اختیار کیا جائے تو اس فہرست میں مزید اتنے ہی مجتہدین کا اضافہ کیا جا سکتا ہے جتنا کہ بیان کیا جاتا ہے۔ اس معاملہ کو اگر فطری انداز سے دیکھا جائے تو بنیادی طور پر مجتہدین کی صرف دو قسمیں قرار پائیں گی۔ میں ان کو کلی مجتہد اور جزئی مجتہد کہوں گا۔ جزئی مجتہد وہ ہے جو شریعت کے فروعی احکام میں مسلمہ فقہی اصولوں کے مطابق اجتہادکرے کلی مجتہد وہ ہے جو کسی پیش آمدہ صورت معاملہ میں روایتی ڈھانچہ سے اوپر اٹھ کر شریعت کے وسیع تر اور گہرے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے تخلیقی نوعیت کا ایک اصول وضع کر سکے۔
رسول اور اصحاب رسول کی زندگی میں جس طرح تمام معاملات و مسائل کے لئے نظیریں موجود ہیں۔ اسی طرح جزئی اجتہاد اور کلی اجتہاد کی نظیریں بھی موجود ہیں۔ ان نظیروں اور مثالوں کا مطالعہ کر کے بعد کے زمانوں کے لئے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔
جزئی اجتہاد کا ایک واقعہ یہ ہے کہ غزوہ خندق سے فراغت کے بعد ذوالقعدہ ۱۹ میں
‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues