Al-Risala · November 1994 · page 20

سنتِ اجتہاد

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۰

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کی بستی بنوقریظہ کے محاصرہ کے لئے ان کی طرف صحابہ کی ایک جماعت بھیجی۔ ان کو روانہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص عصر کی نماز اس وقت تک نہ پڑھے جب تک وہ بنوقریظہ کی بستی میں نہ پہنچ جائے لا يصلين أحد العصر إلا في بني قريظة السیرۃ النبوية لابن کثیر ۳/ ۲۲۵ ہم روانہ ہوئے تو راستے میں عصر کا وقت آگیا۔ کچھ لوگوں نے حکم کی لفظی تعمیل کی، وہ راستے طے کرتے رہے۔ یہاں تک کہ جب بنو قریظہ کی بستی میں پہنچ گئے، اس وقت سواری سے اتر کر عصر کی نماز پڑھی۔ کچھ اور افراد کو اندیشہ ہوا کہ عصر کا وقت شاید نکل جائے۔ چنانچہ انھوں نے درمیان میں رک کر عصر کی نماز ادا کی۔ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول سے مراد تعجیل سیر تھی نہ کہ ہر حال میں نماز کی ادائیگی میں تاخیر۔

بنو قریظہ کے سفر کا یہ واقعہ جزئی اجتہاد کی ایک مثال ہے۔ یہ مثال خود اصحاب رسول کے ذریعہ قائم ہوئی۔ اس میں بظاہر حکم رسول کی خلاف ورزی تھی۔ اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق فرمائی۔ اس سے یہ اصول ملتا ہے کہ اجتہاد میں ابتدائی حکم سے ظاہری مطابقت ضروری نہیں ہے۔ اگر اجتہاد میں حکم شرعی کی اصل روح پائی جارہی ہو تو وہ صحیح اجتہاد قرار دیا جائے گا۔

دور اول میں اجتہاد کلی کی ایک مثال وہ ہے جو حدیبیہ کے موقع پر پیش آئی۔ حدیبیہ کا معاہدہ تمام ظاہری حالات سے اوپر اٹھ کر کیا گیا۔ اس اعتبار سے وہ کلی اجتہادکی نوعیت کو سمجھنے کے لئے ایک معیاری نمونہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

حدیبیہ کا معاہدہ دس سال کا نا جنگ معاہدہ تھا جو یکطرفہ شرائط کی بنیاد پر کیا گیا۔ اس وقت قرآن میں یہ آیت اتر چکی تھی کہ ان لوگوں کو لڑائی کی اجازت دے دی گئی جن سے لڑائی کی جارہی ہے، اس وجہ سے کہ ان پر ظلم کیا گیا (الحج ۳۹) حدیبیہ کے وقت اور حدیبیہ سے پہلے فریق ثانی واضح طور پر ظلم اور جارحیت کا معاملہ کر چکا تھا۔ اس کے باوجود ان کے خلاف جنگ نہیں چھیڑی گئی۔

عمرہ کی ادائیگی کے بغیر حدیبیہ سے واپسی سراسر ملی وقار کے خلاف تھی مگر آپ نے اس کو نظر انداز

‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues

Printed page