سنتِ اجتہاد
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۱
کر دیا۔ معاہدہ کے کاغذ سے رسول اللہ کالفظ مٹاناگویااپنی اصل حیثیت کو مجروح کرنا تھا مگر اس کے باوجود آپ نے رسول اللہ کا لفظ کاغذ سے مٹادیا۔ ابوجندل کوزخمی حالت میں دشمنوں کی طرف واپس بھیجنا سخت جذباتی معاملہ تھا مگر اس کو بھی آپ نے برداشت کر لیا۔ حدیبیہ میں صحابہ کے پڑاؤ پر مکہ کے آدمیوں نے خشت باری کی مگر آپ نے اس کا انتقام نہیں لیا۔ اس طرح کے متعدد اشتعال انگیز واقعات پیش آئے۔ مگر آپ نے ان سب سے اوپر اٹھ کر سوچا۔ آپ نے کلی مصلحت کو جزئی مصالح کے اوپر غالب رکھا۔
حدیبیہ کے وقت جو حالات تھے وہ سب کے سب ٹکراؤ کی طرف لے جانے والے تھے۔ اور ظاہری احکام شریعت کے مطابق، اس وقت یہ نکرہ اؤ عین جائز بھی تھا۔ مگر آپ نے اس قسم کے تمام حالات سے اوپر اٹھ کر سوچا۔ آپ نے قریبی مصلحتوں کو نظر انداز کر کے دور کی پائیدار مصلحتوں کو اہمیت دیتے ہوئے صلح کے معاہدہ پر دستخط کر دئے۔ اس کا نتیجہ، قرآن اور تاریخ کی شہادت کے مطابق، فتح مبین کی صورت میں برآمد ہوا۔
حقیقت یہ ہے کہ صلح حدیبیہ نے اسلام کی ابتدائی تاریخ میں کلی اجتہاد کی ایک نہایت ممتاز مثال قائم کی ہے۔ اسی لئے قرآن میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ اس لئے ہوا کہ وہ اہل ایمان کے لئے ایک نمونہ ہو جائے اور ان کو ایک سیدھا راستہ دکھادے (الفتح: ۲۰) گویا حدیبیہ کا معاملہ قیامت تک کے مسلمانوں کے لئے اجتہاد کلی کا ایک معیاری نمونہ ہے۔
موجودہ زمانہ میں دوبارہ مسلمانوں کو اجتہاد کلی کی ضرورت ہے۔ یہ اجتہاد کلی ان کے لئے گویا ایک برتر حل (superior solution) ثابت ہوگا۔ وہ اسی طرح ان کے مستقبل کے لئے فیصلہ کن بن جائے گا جس طرح دور اول میں حدیبیہ کا معاملہ اسلام کی تاریخ کے لئے فیصلہ کن ثابت ہوا تھا۔
پچھلی صدیوں میں برصغیر ہند میں، نیز پوری مسلم دنیا میں، مسلم رہنماؤں نے بار بار بڑے بڑے اقدامات کئے ہیں، ان اقدامات میں غیر معمولی جانی و مالی قربانیاں دی گئی ہیں۔ مگر یہ تمام اقدامات مکمل طور پر بے نتیجہ رہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہ تمام اقدامات جزئی اجتہاد کی بنیاد پر کئے گئے ۔ جب کہ حالات کا تقاضا تھا کہ کلی اجتہاد والی بصیرت کے تحت فیصلہ کیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues