سنتِ اجتہاد
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۲
جزئی اجتہاد یا جزئی استنباط کی بنیاد کسی ایک حکم شرعی پر قائم ہوتی ہے۔ جب کہ کلی اجتہاد یا کلی استنباط مجموعی شرعی مصلحت کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر حضرت سلمان فارسی جب مکہ سے ہجرت کر رہے تھے تو ان کے پاس کچھ دینار موجود تھے۔ قریش کے کچھ نوجوانوں نے ان کا راستہ روکا اور کہا کہ ہم ان دیناروں کو لے کر تمہیں مدینہ جانے نہیں دیں گے۔ اس وقت اگر حضرت سلمان فارسی اس حدیث کو یاد کرتے کہ مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فھوشھیداوراپنے مال کو بچانے کے لئے قریش کے نوجوانوں سے لڑ جاتے تو یہ جزئی استنباط ہوتا۔ مگر انہوں نے وسیع تر اسلامی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے تمام دینار قریش کے نوجوانوں کے حوالے کر دئے۔ انھوں نے مال کو بچانے کی فکر نہیں کی، بلکہ اپنی جان کو بچاکرمکہ سے مدینہ چلے گئے ۔ ان کی یہ روش کلی استنباط کی ایک مثال تھی۔ موجودہ زمانہ میں مسلم دنیا میں جو بڑے بڑے اقدامات کئے گئے، وہ سب کسی نہ کسی آیت یا حدیث کا حوالہ دے کر کئے گئے۔ مگر یہ سب جزئی استنباطات تھے، جب کہ اس زمانہ میں مجموعی اسلامی مصالح کو سامنے رکھتے ہوئے کلی استنباط کی ضرورت تھی۔ اس کوتاہی کی بنا پر ان کا استنباط یا اجتہاد اجتہادی خطا کی مثال بن گیا۔
اورنگ زیب عالمگیر نے مختلف طاقتوں سے ٹکرائو کیا تو اس کے سامنے اسلام کا صرف یہ حکم تھا کہ اسلام دشمن طاقتوں کو زیر کرو۔ اس کے بعد شاہ ولی اللہ دہلوی نے مرہٹوں کے خلاف جہاد کی اسکیم بنائی۔ سید احمد شہید بریلوی نے سکھوں کے خلاف جہاد کیا۔ علماء دیوبند نے انگریزوں سے جہاد بالسيف کیا۔ اس طرح کے تمام واقعات اسلام کے حکم۔ دشمنوں کا مقابلہ کرو سے مستنبط کئے گئے تھے۔
اسی طرح اقبال کا علیحدہ مسلم اسٹیٹ کا نظریہ اور تقسیم کے بعد اٹھنے والی مسلم پرسنل لا تحریک، بابری مسجد تحریک اس قسم کی تمام تحریکیں تحفظ شریعت کے حکم سے اخذ کی گئی تھیں۔ تھیں۔مگرموجودہ زمانہ میں اسلام اور مسلمانوں کے احیاء کے لئے اس کلی اجتہاد کی ضرورت تھی جو مجموعی مصالح شرعی کی بنیاد پر وضع کیا جائے۔ مگر تمام مصلحین صرف جزئی استنباط کی حد تک پہنچ سکے۔ وہ شریعت کے مجموعی مصالح کے پیش نظر کلی استنباط یا کلی اجتہاد کا ثبوت نہ دے سکے، اس لئے نہ
‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues