Al-Risala · November 1994 · page 23

سنتِ اجتہاد

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۳

ان کا استنباط مطابق حال تھا اور نہ وہ کسی حقیقی نتیجہ تک پہنچانے کا ذریعہ تھا۔ بعض حالات میں جزئی اجتہاد بھی کافی ہو جاتا ہے، جیسا کہ بنو قریظہ کے واقعہ میں نظر آتا ہے۔ مگر بعض اوقات ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں جب کہ ایسے کلی اجتہاد کی ضرورت ہوتی ہے جس میں مصالح کلی کی رعایت پائی جاتی ہو۔ موجودہ زمانہ میں اسی قسم کے کلی اجتہاد کی ضرورت تھی۔ مگر موجودہ زمانہ کے علماء اسلام اس قسم کے کلی اجتہاد تک نہ پہنچ سکے، اس لئے وہ ملت کے لئے ایسا اقدام بھی تجویز نہ کر سکے جس میں مصالح کلی کی رعایت پائی جاتی ہو۔ کلی استنباط کے لئے وہ مجتہدانہ بصیرت درکار ہوتی ہے جس کی توجہ جزئیات دین سے زیادہ اساسات دین پر ہو۔ جو احکام شریعت کے ساتھ تاریخ کی طاقتوں کو بھی جانتا ہو۔ جو الفاظ شریعت کے ساتھ اسرار شریعت کی گہرائیوں تک بھی پہنچ چکا ہو۔ جس کے ایمان نے اس کو وہ فراست ربانی عطا کی ہو جب کہ آدمی خدا کی روشنی سے دیکھنے لگتا ہے جو علوم الہامی کا عارف ہونے کے ساتھ بصیر آ ب زمانہ کے درجہ پر بھی فائز ہو۔

یہ وہ عالم شریعت ہے جس کی نگاہ وقتی مسائل سے گزر کر دور تر مسائل تک پہنچ گئی ہو۔ جو قریبی حالات سے زیادہ مستقبل کے حالات پر نظر رکھے۔ جو کسی اقدام کے مابعد نتائج کو بھی سمجھنے کی استعداد رکھتا ہو۔ جو رد عمل کی نفسیات سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے۔ جو مسائل و مشکلات کے درمیان مواقع اور امکانات کو دریافت کر سکے۔ جو خواہشات انسانی کے دائرہ سے نکل کر فیصلہ خدا وندی کے اشاروں کو پڑھنے والا بن گیا ہو۔ جو اس راز کو جانے کہ کبھی بولنا ضروری ہوتا ہے اور کبھی نہ بولنا۔ کبھی کرنا ضروری ہوتا ہے اور کبھی نہ کرنا۔ جو ظاہری ہنگاموں کے درمیان چھپے ہوئے عوامل کو جانے، جو پس پائی کے واقعہ کو بھی اقدام کے روپ میں دیکھ سکے۔ دعوۃ ایمپائر اور نگ زیب عالمگیر (۱۷۰۷ - عالمگیر(۱۷۰۷۔ ۱۶۱۸)نے نے برصغیر ہند میں اسلام کا پولیٹیکل ایمپائر بنانا چاہا۔ مگر طویل ترین زمانہ تک ہر قسم کی کوشش اور قربانی کے باوجود وہ یہاں مطلوب پلیٹیکل ایمپائر بنانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کے بعد سے آج تک تقریباً تین سو سال سے تمام رہنماؤں کا یہی سب سے زیادہ پسندیدہ خواب رہا ہے۔ کوئی اس مقصد کے لئے جہاد بالسيف

‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues

Printed page