سنتِ اجتہاد
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۴
تک گیا۔ اور کسی کے حالات نے اس کو جہاد بالتعلم اور جہاد باللسان تک محدود رکھا۔ تاہم یہ تین سو سالہ کوششیں بے حساب جانی اور مالی قربانیوں کے باوجود سراسر بے نتیجہ رہیں۔ اس کا سبب یہی تھا کہ ان تمام رہنماؤں کا ذہن جزئی دائرہ میں کام کرتا رہا۔ وہ جزئیات سے اٹھ کر کلیات کو اپنی گرفت میں نہ لاسکے۔
اس اجتہادی خطا کا اصل راز یہ ہے کہ مغربی قوموں کی طرف سے موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کو جو چیلنج پیش آیا، اس میں عصر کے ساتھ تیسرا پہلو وافر مقدار میں موجود تھا۔ مگر ہمارے تمام رہنما عصر کے پہلو میں اتنا الجھے کہ وہ تیسرے پہلوؤں کو نہ دیکھ سکے۔
مغربی تہذیب کے ظہور کا ایک ابتدائی نتیجہ یہ تھا کہ اس نے ان قوموں کو سیاسی غلبہ عطا کر دیا۔ مگر اس تہذیب نے انسانی معاملات میں جو انقلاب برپا کیا تھا اس نے تاریخ میں پہلی بار عظیم امکان کھول دیا تھا کہ پولیٹیکل ایمپائر سے بھی زیادہ بڑی ایک چیز قائم کی جاسکے، اور وہ وہی چیز ہے جس کو ہم نے دعوہ ایمپائر کہا ہے۔
پولیٹیکل ایمپائریں میں طاقت کا انحصار تمام تر سیاسی قوت پر ہوتا ہے۔ جب کہ دعوہ ایمپائر میں طاقت کا انحصار تمام تر فکری اور نظریاتی قوت پر ہوتا ہے۔ سیاسی یا فوجی قوت کسی ایک قوم کی اجارہ داری نہیں۔ اس معاملہ میں تلک الایام ند او لھا بین الناس کی سنت الہی کار فرما ہوتی ہے اور وہ کسی بھی قوم کے حصہ میں آسکتی ہے۔ مگر فکری اور نظریاتی قوت کے معاملہ میں اہل اسلام کو تنہا اجارہ داری حاصل ہے۔ کیوں کہ اسلام واحد مذہب ہے جو تاریخی طور پر معتبر مذہب کی حیثیت رکھتا ہے دوسرے تمام مذاہب تبدیلیوں کے نتیجہ میں تاریخی اعتباریت کھو چکے ہیں۔ اس طرح دعوہ ایمپائر بنانے کی صلاحیت حقیقی معنوں میں اسلام کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔
قدیم زمانہ کے حالات میں صرف پولیٹیکل ایمپائر ہی اصل اہمیت رکھتا تھا۔ اس وقت مسلمانوں نے عالمی سطح پر اپنا ایک پولیٹیکل ایمپائر بنایا۔ مگر موجودہ زمانہ میں سیاست اور حکومت کی حیثیت ثانوی ہو گئی۔ اب دوسری غیر سیاسی چیزوں نے اولین اہمیت اختیار کرلی ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مصلحین اس راز کو سمجھ نہ سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بے فائدہ طور پر سیاست کی چٹان پر اپنا سر
‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues