Al-Risala · November 1994 · page 25

سنتِ اجتہاد

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۵

ٹکراتے رہے۔ جب کہ ہمیں اسی وقت ان کے لئے دوسرے مواقع کو استعمال کر کے دوبارہ زیادہ طاقت ور انداز میں دعوہ ایمپائر بنانے کا امکان پوری طرح کھلا ہوا تھا۔ قدیم زمانہ میں اقتصادیات کا انحصار تمام تر زمین پر ہوتا تھا اور زمین بادشاہ کی ملکیت ہوتی تھی۔ اس لئے بادشاہ کے سوا کوئی اور شخص اقتصادی قوت کا مالک نہیں بن سکتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں انڈسٹری کی ترقی نے زمین کو ثانوی حیثیت دیدی ہے اور صنعت و تجارت کو اقتصادی معاملہ میں اولین اہمیت حاصل ہوگئی ہے۔ اور جیسا کہ معلوم ہے، انڈسٹری پوری طرح ایک آزاد شعبہ ہے۔ کوئی بھی شخص یا کوئی بھی گروہ انڈسٹری کے مواقع کو استعمال کر کے اعلیٰ ترین اقتصادی ذرائع کا مالک بن سکتا ہے۔

قدیم زمانہ میں الناس علی دین ملوکہم کا اصول تھا۔ کیوں کہ بادشاہ کے سوا کسی کے پاس یہ طاقت نہ تھی کہ وہ لوگوں کے ذہنوں کو متاثر کر سکے۔ موجودہ زمانہ میں کمیونیکیشن کے جدید ذرائع نے اس صورتحال کو یکسر بدل دیا ہے۔ اب یہ ممکن ہوگیا ہے کہ جدید ذرائع مواصلات کو استعمال کر کے شاہی محل کے لوگوں کو بھی اپنا مخاطب بنا سکے۔ وہ دنیا بھر کے تمام کچے اور پکے مکانات میں بلا روک ٹوک داخل ہو جائے۔

قدیم زمانہ مذہبی جبر کا زمانہ تھا۔ سرکاری مذہب کے سوا کسی اور مذہب کی آزادانہ تبلیغ کی اجازت نہ تھی۔ موجودہ زمانہ مذہبی آزادی کا زمانہ ہے۔ اب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ اہل حق اپنے پیغام کو لے کر اٹھیں اور کسی بھی پابندی کے بغیر اس کو ایک ایک شخص تک پہنچا دیں۔ اور مذہبی معاملات پر آزادانہ بحث و مباحثہ کے ذریعہ دین حق کی صداقت کو ثابت اور مبرہن کر سکیں۔ اس طرح کی بہت سی دور رس تبدیلیاں موجودہ زمانہ میں ہوئی ہیں۔ انھوں نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ اہل اسلام ہر ملک میں اعلیٰ درجے کے مدرسے اور اسلامی مرکز بنائیں۔ وہ مسجدوں اور دینی اداروں کا نظام ہر جگہ قائم کریں۔ وہ دعوتی سرگرمیوں کو مؤثر ترین انداز میں جاری کر سکیں۔ وہ ہر قسم کے معاون اداروں کے ذریعہ اسلام کو ایک طاقت ور تحریک کی حیثیت دے دیں۔ وہ جدید ترین وسائل کو استعمال کر کے ہر ملک میں اپنا دعوہ ایمپائر کھڑا کر سکیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues

Printed page