سنتِ اجتہاد
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۶
اور اولڈ چرچ کے درمیان زبردست اختلافات تھے جو تقریباً سو سال تک شدت کے ساتھ جاری رہے۔ آخر کار دونوں کے درمیان گفت و شنید سے ایک معاہدہ ہوا۔ اس معاہدہ کا اعلانِ بون میں کیا گیا۔ اس لئے اس کو بون اعلان (Declaration of Bonn) کہا جاتا ہے۔ یہ اعلان ۱۹۳۱ میں کیا گیا۔ اس کے تحت دونوں نے ایک دوسرے کی آزاد حیثیت کو تسلیم کر لیا۔ جب اختلافات نظری اور اعتقادی سطح پر ختم نہ ہو رہے ہوں تو بہترین دانش مندی یہ ہے کہ نظری سطح پر اختلاف کو باقی رکھتے ہوئے عملی سطح پر اس کا خاتمہ کر دیا جائے۔ جرمنی میں ٹرانزٹ پیسنجر کی حیثیت سے کئی بار جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ مگر کچھ دن قیام کر کے جرمنی کو باقاعدہ طور پر دیکھنے کی نوبت نہیں آئی۔ اس دوران مطالعہ کے ذریعہ جو باتیں علم میں آئیں ان میں سے ایک قصہ یہ تھا۔
چند دن پہلے ۲۱ ستمبر ۱۹۹۲ کو ایک واقعہ فرینکفرٹ ایئر پورٹ پر ہوا۔ اس واقعہ کو میں نے اخبار میں پڑھا۔ ایک ہندوستانی خاتون منتران سنگھ نے ایک جرمن مسٹرسونال(Mr (Mr Sonal) سے شادی کی ہے۔ وہ میونخ سے فرینکفرٹ پہنچیں۔ یہاں سے ان کو دہلی کی فلائٹ لینا تھا۔ ایئر پورٹ پر انتظار کے دوران وہ ایک بک شاپ (Julius Valtermahm) میں داخل ہوئیں، یہاں وہ ایک میگزین اٹھا کر دیکھنے لگیں۔ "سیلس وومن" جس کا نام ارسلا (Ursula) تھا، اس نے دیوار پر لگے ہوئے ایک کاغذ کی طرف اشارہ کیا۔ اس پر لکھا تھا : پہلے خرید و، پھر پڑھو (Buy now, Read later)
بک شاپ میں کئی سفید فام عورتیں میگزین اٹھا اٹھا کر باقاعدہ طور پر پڑھ رہی تھیں۔ منتران سنگھ نے کہا کہ یہ عورتیں بھی تو پڑھ رہی ہیں۔ آپ ان کو کیوں نہیں منع کرتیں۔ اس پر دکان کی خاتون بگڑ گئیں۔ اس نے کہا کہ یہاں سے نکل جا، کالی عورت ۔ یہ میری دکان ہے۔ میں جو چاہوں گی کروں گی:
Get out, you Black-head. This is my shop. I will do what I like. منتران سنگھ اس کے بعد ایئر پورٹ کے مختلف دفتروں میں گئیں تاکہ اپنی شکایت درج کرائیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues