Al-Risala · November 1994 · page 43

سنتِ اجتہاد

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۴۳

سے دیکھا ہے۔ میرے نزدیک اس کا بنیادی سبب ایجوکیشن ہے۔

ایک صاحب نے کہا کہ آپ کی تحریروں میں اختلاف رائے اور تنقید بہت ہوتی ہے۔ یہاں کے کچھ لوگ کہنے لگے ہیں کہ آپ کو تنقید کے سوا کسی اور چیز سے دلچسپی نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بے بنیاد الزام ہے۔ آپ کسی کبھی مہینے کے رسالہ کو اٹھا کر دیکھئے اور ہر مضمون کو پڑھ کر پتہ کیجئے کہ اس میں اختلاف رائے والا پہلو کتنا ہے۔ آپ پائیں گے کہ کسی پرچہ میں سرے سے ایسا کوئی مضمون نہ ہوگا اور کسی میں ہوگا بھی تو صرف ایک یا دو فیصد۔

پھر میں نے کہا کہ اصل مسئلہ اختلاف رائے نہیں ہے۔ اصل مسئلہ لوگوں کی غیر ضروری حساسیت ہے۔ صحابہ کے زمانہ سے لے کر ہر اگلے دور تک علماء کے درمیان اختلاف ہوتا تھا مگر کبھی کسی نے اختلاف کو برا نہیں بتایا۔ مثلاً امام محمد اور امام ابو یوسف دونوں امام ابو حنیفہ کے شاگرد تھے ۔ دونوں نے امام ابو حنیفہ کی رایوں سے ۱۸۲ معاملے میں اختلاف کیا ہے۔ مگر اس کو بھی کسی نے برا نہیں مانا۔ حقیقت یہ ہے کہ اختلاف رائے یا علمی و فکری تبصرہ قوموں کی زندگی ہے۔ اس کو اسلام میں اتنا زیادہ جگہ دی گئی ہے کہ آدم کی پیدائش کی کہانی کا ایک جزو جو بائبل میں حذف ہو گیا تھا اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں درج فرمایا۔ یہ خود اللہ تعالیٰ سے فرشتوں کا یہ کہنا تھا کہ اتجعل فیہا من یسفک فيہا و ليسفك الدماء (البقرۃ (۳۰)

ایک صاحب نے تنہائی میں ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ جب کمرہ کے اندر تنہا ملاقات ہوئی تو وہ اپنے گھریلو حالات بتاتے ہوئے رونے لگے۔ یہاں بہت سے لوگ ہیں جو بظاہر دیکھنے میں ٹھیک معلوم ہوں گے لیکن اگر تحقیق کیجئے تو معلوم ہوگا کہ لوگ سخت الجھنوں میں مبتلا ہیں۔ کہیں باپ اور بیٹے کے درمیان کشکش، کہیں شوہر اور بیوی کے تعلقات میں بگاڑ، کہیں ساس اور بہو کے درمیان جھگڑا۔

اس مسئلہ پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ مسلمانوں میں اتنی شدت کے ساتھ ان مسائل کے پیدا ہونے کا کم از کم ایک سبب یہ ہے کہ مسلمانوں کی جدید نسلوں کو دو سو برس سے صرف ایک ہی

‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues

Printed page