Al-Risala · November 1994 · page 44

سنتِ اجتہاد

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۴۴

تعلیم دی جارہی ہے، اور وہ جہاد ہے۔ ہر لکھنے اور بولنے والا صرف جہاد کو گلوريفائی کرنے میں مشغول ہے۔ کوئی بھی نہیں جو صبر اعراض اور مفاہمت کی قدروں کو جاننے اور اس کو امت کے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرے۔

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ امت کا مزاج یہ بن گیا ہے کہ مسائل کو حل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے ۔ وہ جہاد اور ٹکراؤ ہے۔ چنانچہ آدمی جب کسی مسئلہ سے دوچار ہوتا ہے، خواہ وہ گھر کے باہر ہو یا گھر کے اندر ، تو فوراً جہادی تدبیریں اس کے ذہن میں آنے لگتی ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ اس صورت کو بدلا جائے اور لوگوں کو صبر و اعراض اور حسن تدبیر کی قدروں سے آشنا کرایا جائے۔ برمنگھم میں علماء کی ایک مجلس میں ایک بزرگ نے سوال کیا کہ اردو خواں طبقہ یا انگریزی خواں طبقہ میں تو آپ کا مشن پھیل رہا ہے۔ عرب دنیا میں اس کو کس حد تک قبولیت حاصل ہوئی ہے۔ میں نے کہا کہ پچھلے چند سالوں میں عرب نوجوانوں میں یہ مشن تیزی سے پھیلا ہے اور پھیلتا جارہا ہے۔ اسی لئے میں یہاں سے ظاہر جارہا ہوں۔ کیوں کہ وہاں عرب نوجوان جمع ہوں گے۔ انھوں نے شدت سے اس کی خواہش ظاہر کی ہے۔

میں نے کہا کہ عرب نوجوانوں میں اس مشن کے پھیلنے کی خاص وجہ ہے۔ آپ لوگوں کو اگر عرب دنیا کے داخلی حالات کا علم ہو تو آپ کو معلوم ہوگا کہ اسلام کی سیاسی تفسیر عرب دنیا میں تیزی سے پھیلی۔ اس کے نتیجہ میں عرب دنیا کے اسلام پسندوں اور وہاں کی حکومتوں کے درمیان ٹکراؤ ہو گیا۔ کیوں کہ سیاسی اسلام کا نظریہ براہ راست طور پر موجودہ عرب حکمرانوں کے نظام سے ٹکراتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں ہر عرب ملک میں اسلام پسند حضرات کی تغذیب شروع ہو گئی جو تا حال جاری ہے۔

اس صورتحال کے نتیجہ میں عرب نوجوانوں کے لئے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب رہ گیا تھا۔ یا تغذیب یا منافقت۔ اگروہ اپنے نظریہ کے مطابق رہنا چاہیں تو حکمرانوں کے شدیدعتاب کا شکار بنیں ۔ اور اگر اپنے نظریہ کو اپنے اندر چھپائیں تو منافق بن کر زندگی گزاریں۔ اس کے بعد جب ان کاتعارف الرسالہ مشن سے ہوا تو ان پر منکشف ہوا کہ ہم کو نہ عذاب سہنے کی ضرورت ہے اور نہ منافق بننے کی۔ خیر الامور اوسطہا کے اصول کے مطابق یہاں ان کے لئے ایک تیسری صورت

‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues

Printed page