سنتِ اجتہاد
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۴۵
موجود ہے جو زیادہ بہتر اور زیادہ صحیح ہے۔ چنانچہ وہ الرسالہ مشن کو دل و جان سے قبول کر رہے ہیں۔
ایک صاحب نے کہا کہ ہندوستان میں اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، اس کے لئے آپ کیا کر رہے ہیں۔ یہ گفت وگورات کے وقت ہو رہی تھی ۔ میں نے کہا کہ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی کہے کہ دنیا میں اندھیرا چھا رہا ہے، اس کو دور کرنے کے لئے آپ کیا کر رہے ہیں۔ بظاہر اس وقت اندھیرا ہے، مگر دوسرا اس سے بڑا واقعہ یہ ہے کہ پوراکائناتی نظام اس اندھیرے کو ختم کرنے دوبارہ صبح طلوع کرنے کی طرف متحرک ہے۔ پھر آپ اندھیرے کے خلاف احتجاج کیوں کریں۔ آپ آنے والی صبح کو سوچ کر اللہ کا شکر کیوں نہ کریں۔ میں نے کہا کہ اس دین کے ساتھ اللہ نے محفوظیت را لجر (۹) کا معاملہ کیا ہے ۔ اس معاملہ کی نشانیاں آپ ساری تاریخ میں دیکھ سکتے ہیں۔ تیرھویں صدی عیسوی میں تاتاریوں نے اسلام اور مسلمانوں کو مٹانا چاہا۔ مگر نتیجہ یہ ہوا کہ خود تاتاری دین کے خادم بن گئے۔ بیسویں صدی میں اتا ترک اور عصمت انونو نے ترکی سے اسلام کو ختم کرنا چاہا۔ مگر دو نسلوں تک حکومت کی ساری طاقت ختم کرنے کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ عصمت انونو ( ۱۹۳۷ء - ۱۹۸۸ء) نے انتقال کے وقت کہا کہ میں نے اپنی زندگی میں یہ عجیب چیز دیکھی کہ ہم نے ترکی میں سیکولرزم کا پودا بویا مگر جب پھل نکلا تو وہ اسلام تھا۔
یہی معاملہ ہندوستان میں ہو رہا ہے۔ لوگوں کے بیان کے مطابق ۱۹۴۷ء سے پہلے ہندوؤں نے انڈیا سے مسلمانوں کے وجود کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا۔ مگر ساری کوششوں کے بعد یہ حال ہوا کہ ۱۹۴۷ میں غیر منقسم ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد چھ کروڑ تھی۔ آج اسی ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً چوگنا ہو چکی ہے۔ میوات میں کچھ جاہل مسلمان تھے جو چوٹیاں رکھتے تھے اور ہندو رسوم مناتے تھے۔ ہندوؤں نے ان کو شدھی کر کے انھیں دوبارہ ہندو بنانے کی تحریک چلائی۔ اس کے جواب میں مولانا الیاس صاحب نے میواتیوں کی دینی اصلاح کی کوشش شروع کی۔ آج یہ حال ہے کہ نہ صرف میواتیوں کی دینی اصلاح ہوئی بلکہ مولانا الیاس صاحب کی اٹھائی ہوئی تحریک ایک عالمی اصلاحی تحریک بن گئی۔ تقسیم کے بعد کچھ ہندوؤں نے اجودھیا کی بابری مسجد پر قبضہ کر کے کی
‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues