The bells of London begun to ring.
الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۴۶
کوشش کی۔ اس کے بعد مسلمانوں میں یہ ذہن پیدا ہوا کہ اجودھیا کی مسجد میں ہندوؤں کو داخلہ کا موقع اس لئے ملاکہ وہ غیر آباد تھی۔ کیوں کہ خانہ خالی رادیومی گیر د۔ اس احساس نے دوسری مسجدوں کی آبادی کا ذہن پیدا کیا۔ آج ہندوستان کی تین لاکھ سے زیادہ مسجدیں مزید بہت زیادہ آباد اور پر رونق ہو چکی ہیں۔
پھر جب حالت یہ ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہر سازش برعکس طور پر خود اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کا باعث ہوتی ہے تو ہم کو لوگوں کی سازش پر پریشان ہونے کی کیا ضرورت۔ چینل ہرسٹ کے پروگرام سے فارغ ہونے کے بعد نیو ہیم نار تھ (Newham North)
کے لئے روانگی ہوئی۔ اس سفر کے درمیان لندن کا مشہور دریائے ٹیمز پڑتا ہے۔ اس دریا کے نیچے سے لمبی سرنگ بنا کر راستہ نکالا گیا ہے۔ اس کے اندر سے ہماری گاڑی گزری تو عجیب احساس ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیسی کیسی قوتیں عطا فرمائی ہیں۔ وہ نہ صرف دریا کے اوپر کشتی کے ذریعہ سفر کرتا ہے۔ بلکہ دریا کے نیچے سے سڑک نکال کر خشکی کا راستہ بنا سکتا ہے۔ اوپر دریا بہ رہا ہے اور نیچے سے کاروں کے قافلے گزر رہے ہیں۔
۲ ستمبر کی صبح کو ہم گھر سے نکلے کہ نیو ہیم نار تھ گرین اسٹریٹ) کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھیں، یہ صبح 4 بجے کا وقت تھا۔ وہاں پہنچے تو اس کے دونوں دروازوں پر تالا لگا ہوا تھا۔ اوپر انگریزی میں لکھا ہوا بورڈ دکھائی دے رہا تھا : دی مسلم کمیونٹی سنٹر۔ کچھ دیر تک سڑک پر کھڑے ہو کر انتظار کیا کہ شاید کوئی صاحب آ رہے ہوں اور مسجد کا دروازہ کھولیں، مگر کوئی صاحب نہیں آئے۔ چنانچہ واپس آکر اپنی قیام گاہ پر فجر کی نماز ادا کی ۔
۳ ستمبر کو اتوار کا دن تھا۔ صبح ہوئی تو مجھے سو سال پہلے کی انگریزی کتاب یاد آئی جس کو میں نے تقریباً پچاس سال پہلے پڑھا تھا۔ یہ بچوں کی کتاب تھی۔ اس میں لندن کی صبح کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ الفاظ لکھے گئے تھے ــــــــ لندن کے گھنٹے بجنے لگے :
The bells of London begun to ring.
میں نے سننے کی کوشش کی تو لندن کے گھنٹوں کی آواز مجھے سنائی نہ دی ۔ البتہ اس کے بجائے سڑک سے گزرنے والی کاروں کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ لندن کے گھنٹے
‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues