Al-Risala · November 1994 · page 47

The bells of London begun to ring.

الرسالہ، نومبر ۱۹۹۴، صفحہ ۴۷

لندن کے چرچ کے گھنٹے تھے۔ سو سال پہلے صبح کے وقت سب سے زیادہ عام آواز یہاں کے چرچ کے گھنٹوں کی آوازیں تھیں۔ مگر صنعتی دور نے حالات میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کر دی ہیں۔ اب عبادت خانوں کی اہمیت گھٹ گئی اور اس کے بجائے مشینو ں کی اہمیت زیادہ ہو گئی۔ ۔

لندن میں چھوٹی بڑی تقریبا ۷۲ مسجدی ہیں۔ میری قیام گاہ کے قریب ایک مسجد تھی۔ اس سے بالکل متصل ایک مکان تھا۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ مکان ایک انگریز کا تھا۔ وہ مکان بیچنا چاہتا تھا۔ کئی انگریز اس کو خریدنے کے لئے آئے۔ انہی میں سے ایک مسلمان بھی تھا جو مسجد کی تو سیع کے لئے اس مکان کو خرید نا چاہتا تھا۔ انگریز نے اپنے ہم قوموں کو مکان نہیں دیا۔ اس نے اپنا مکان مسجد والوں کو دے دیا اور کہا کہ آپ لوگ اس کو مسجد میں شامل کر کے مسجد کی تو سیع کریں۔ یہ میرے لئے زیادہ خوشی کی بات ہے کہ میرا مکان آئندہ ایک عبادت خانہ کا حصہ بن جائے ۔ میں نے خود جا کر اس مسجد اور اس مکان کو دیکھا۔

لندن میں مجھے بون (جرمنی) سے مسٹر فاروق جنگ کا ٹیلی فون ملا۔ انھوں نے پہلے ہی سے اس سفر کا مجھے جرمنی آنے کی دعوت دی تھی ۔ انھوں نے یہ انتظام کیا تھا کہ برو سیلز سے بذریعہ کار مجھ کو بون لے جائیں۔ مگر بعض وجوہ سے میں ایسانہ کرسکا۔

ذاتی طور پر میں جرمنی جانے کا خواہش مند تھا۔ خاص طور پر میں برلن وال کو دیکھنا چاہتا تھا۔ جواب نوٹ کو ختم ہو چکی ہے ۔ برلن وال ایک سو میل لمبی تھی جو مشرق برلن کو مغربی برلن سے جدا کر تی تھی۔ سیمنٹ کیکریٹ سے سابق سوویت یونین کے زیر حکم بنائی گئی تھی ۔ ۔ ونسٹن چرچل نے اس کو آہنی پر دہ (Iron Curtain) کا نام دیا تھا ۔ برلن وال اگست ۱۹۶۱ میں بنائی گئی تھی۔ اس کا خاص مقصد یہ تھا کہ مشرقی جرمنی سے بھاگ کر مغربی جرمنی میں داخل ہونے والوں کو روکا جائے : It was built in August 1961, mainly with the aim to contain the massive exodus of East Germans to the West. مگر ۹ نومبر ۱۹۸۹ کی رات کو برلن وال ہمیشہ کے لئے توڑ دی گئی۔ حتیٰ کہ مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی کی تقسیم بھی ختم ہو گئی۔ دونوں مل کر ایک ملک بن گئے اور ایک حصہ کے لوگوں کے لئے دوسرے حصہ کی طرف جانے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 1994 All issues

Printed page