دعوتی تدبیر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۹
دعوتی تدبیر
ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ اور اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے اللہ کی وعمل صالحا وقال انني من المسلمين۔ طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرمانبرداروں ولا تستوی الحسنة ولا السيئة ادفع میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں۔ بالتي هي احسن فاذا الذي بينک و تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے بينه عداوة كانه و لي حميم۔ کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی وہ ایسا ہو گیا جیسے وما یلقاھا الا الذين صبروا وما کوئی دوست قرابت والا۔ اور یہ بات اسی کو ملتی یلقاھا الا ذو حظ عظیم ۔ و اما ہے جو صبر کرنے والے ہیں اور یہ بات اسی کو ملتی ينز غنک من الشیطان نزغ فاستعذ ہے جو بڑا نصیبہ والا ہے۔ اور اگر شیطان تمہارے بالله انه هو السميع العليم دل میں کچھ وسوسہ ڈالے تو اللہ کی پناہ مانگو بیشک وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
(۳۶-۳۳ : ۴۱)
عبد اللہ بن عباس نے اس آیت میں الحسنة سے قول توحید مراد لیا ہے۔ انھوں نے کہا : الحسنة لا اله الا الله والسیئۃ الشرك (الجامع لاحکام القرآن للقرطبی ۳۶۱/۱۵) اس تفسیر کی روشنی میں آیت کی تشریح کی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سب سے بہتر تحریک وہ ہے جو دعوت الی اللہ کی بنیاد پر اٹھے۔ اگر کوئی شخص اپنے باطل مفروضات کی بنا پر تم سے دشمنی کرنے لگے تو اس کو تم اپنا دشمن نہ سمجھ لو۔ تمہارے اور اس کے درمیان پھر بھی ایک قرابت ہے، اور وہ یکساں فطرت کی قرابت ہے۔ اس کی باطل روش کو نظر انداز کرتے ہوئے تم اس کے سامنے اپنی دعوت حق پیش کرتے رہو۔ اس کے بعد عین ممکن ہے کہ اس کا ظاہری پردہ ہٹ جائے اور وہ تمہارے عقیدہ کو اپنا کر تمہارا قریبی دوست بن جائے۔ مگر یاد رکھو، دشمن کو دوست بنانے کی اس تدبیر کو زیرِ عمل لانے کی ایک لازمی شرط ہے، اور وہ صبر ہے۔ فریق ثانی کی اشتعال انگیزی سے تمہارے اندر مخالفانہ جذبات پیدا ہوں تو اس کو شیطان کی کار فرمائی سمجھو اور قول احسن کے رویہ پر ہر حال میں قائم رہو۔ یہ بلاشبہ اعلیٰ حوصلہ کی بات ہے۔ مگر اس دنیا میں بڑا حوصلہ رکھنے والے لوگ ہی بڑی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues