Al-Risala · December 1994 · page 19

smoking is prohibited on domestic flights

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۱۹

وہاں میری ملاقات پروفیسر یوسف سلیم چشتی (۱۹۸۸ - ۱۹۰۸ء) سے ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ اقبال نے دعاۃ اور مبلغین کی تیاری کے لیے اشاعت اسلام کالج کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا تھا۔ یوسف سلیم چشتی کو اس کا پرنسپل مقرر کیا گیا تھا۔ اس میں چار سال کا کورس تھا جس میں مختلف زبانیں، تاریخ مذاہب اور تقابل ادیان وغیرہ مضامین پڑھائے جاتے تھے۔ یہ ایک بے حد مفید کام تھا۔ مگر اقبال خود تو شعر گوئی میں مشغول رہے اور اس کام کو دوسروں کے ذمہ کر دیا۔ چنانچہ یہ ادارہ چار سال میں ٹوٹ گیا۔ اقبال اگر خود اپنے آپ کو اس میں وقف کرتے تو یہ ادارہ شاید ایک تاریخ ساز ادارہ ثابت ہوتا۔ جب میں نے یہ بات کہی تو اچانک لوگ بھڑک اٹھے۔ ساری گفتگواس پر چل پڑی کہ اقبال جیسی عظیم شخصیت پر آپ نے تنقید کیوں کر دی۔ اصل بات (اشاعت اسلام کالج کا دوبارہ قیام) پس پشت چلا گیا ۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے وہ آیت یاد آئی جس میں ہدایت یافتہ اور صاحب عقل ہونے کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ آدمی بات کو غور سے سنے اور پھر کلام کے بہتر مفہوم کی پیروی کرے (الزمر ۱۸) مسلم علماءءء اوردانشوروں کی مجالس میں میں نے بار بار یہ بات دیکھی ہے کہ ان میں یہ مزاج موجود نہیں ۔ ان کو یہ مزاج نہ قرآن سے ملا اور نہ علم سے۔ تاہم فقط بین بینار صحت مند نقطہ نظر کے حامل نظر آئے۔ علما ء اسلام کی قائدانہ سرگرمیاں بے نتیجہ کیوں ہوگئیں۔ اس کا جواب اس حدیث پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے جو صحیح ابن حبان میں ابو ذر رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نقل کی گئی ہے۔ اس میں مومن عاقل کی یہ صفت بتائی گئی ہے کہ وہ اپنے زمانہ کو جاننے والا ہو (ان يكون بصيرا بزمانه) اس معاملہ میں یہی اصل نکتہ کی بات ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ علما کے قائدانہ عمل کے باوجود نتیجہ نہ ملنے کا واحد فیصلہ کن سبب یہ تھا کہ وہ اپنے زمانہ کے حالات سے بے خبر تھے۔ مجھے ان علما کے اخلاص اور دیانت داری میں شبہ نہیں۔ مگر کسی کا اخلاص اس کے لیے سنت اللہ کا بدل نہیں بن سکتا۔ اخلاص کے باوجود ان کی جدوجہد میں زمانی بصیرت شامل نہ تھی۔ یہی وہ کمی ہے جس نے ان کی کوششوں کو آخری حد تک بے نتیجہ بنا دیا۔

انھوں نے بصیرت زمانہ بنے بغیر قائد زمانہ بننے کی کوشش کی ۔ زمانہ کی تبدیلی از سر نو تیاری کا تقاضا کر رہی تھی۔ مگر وہ تیاری کے بغیر اپنی موجودہ حالت کے ساتھ ہی ، اقبال کے الفاظ میں، بے خطرآتشِ نمرودمیں کود پڑے ۔ یہ بلا شبہ ایک کوتاہی تھی۔ اور جو لوگ ایسی کوتاہی کریں

‹ Previous page Next page › Contents of December 1994 All issues

Printed page