Al-Risala · December 1994 · page 20

smoking is prohibited on domestic flights

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۰

وہ موجودہ اسباب کی دنیا میں کبھی کسی حقیقی نتیجہ کو ظہور میں نہیں لا سکتے۔ اس سیشن کے صدر مولانامحمد فاروق خاں صاحب تھے۔ انھوں نے آخر میں مفصل تقریر کی۔ انھوں نے شرکا، کے اس غیر علمی انداز پر سخت تنقید کی کہ میری بات کو الٹے مفہوم میں لے کر میرے خلاف بے معنی تقریر کرتے رہے۔ ایک اور صاحب ، جناب یمین الاسلام خان انجینئر نے کہا : یہ لوگ تو آپ کے خلاف اس طرح بول رہے تھے جیسے کہ وہ پہلے ہی سے خار کھائے بیٹھے ہوں۔ مولانا محمد فاروق خاں صاحب نے میرے نقطہ نظر کی مکمل تائید کرتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں معترضین کا تفصیلی جواب دیا۔ انھوں نے کہا کہ آج ہمارا یہ حال ہے کہ لوگوں کے اندر ہم ان دروازوں سے داخل ہونا چاہتے ہیں جہاں ان کی طرف سے پہرے دار بیٹھے ہوئے ہیں۔ مثلاً فخر کا دروازہ ، ٹکراؤ کا دروازہ ، قومی مفاد کا دروازہ ، یہ سب دروازے بند ہیں۔ مگر دل کے دروازہ پر کوئی پہرے دار نہیں۔ لیکن عجیب بات ہے کہ ہم بنددروازوں پراپناسرپٹک رہے ہیں۔ مگر کھلے دروازہ سے لوگوں کے اندر داخل ہونے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہاں مدارس عربیہ سے تعلق رکھنے والے کئی اصحاب سے ملاقات ہوئی۔ ان سے گفتگو کے بعد یہ ذہن تازہ ہو گیا کہ مدارس عربیہ کی بنیادی کمزوری ان کا محدود ذہن ہے۔ لکھنؤ کے ندوہ سمیت، تمام مدارس محدود دائرہ میں سوچ پاتے ہیں۔ اسی لیے ایک ایک صدی گزر جانے پر بھی ان کے یہاں کوئی حقیقی ارتقاء نہیں ہوتا۔

اس سلسلہ میں مجھے متعدد تجربے پیش آئے ہیں۔ الجمعیة ویکلی سے وابستگی کے زمانہ میں میں نے ندوہ کے ذمہ دار اعلیٰ کو ایک خط لکھا کہ میں چاہتا ہوں کہ چند مہینہ ندوہ میں قیام کر کے " قرآن اور فکر جدید" کے موضوع پر طلبہ کو تیار کروں۔ اس کی صورت میں نے یہ تجویز کی کہ مجھے ندوہ کے احاطہ میں صرف ایک کمرہ قیام کے لیے دے دیا جائے ۔ اس کے بعد تمام اخراجات یا انتظام میرے ذمہ ہوگا۔ میں روزانہ مقرر وقت پر درس دوں گا۔ طلبہ کو آزادی ہوگی کہ جو چاہے شرکت کرے اور جو چاہے شرکت نہ کرے۔ میں نے یہ بھی لکھا کہ اس سلسلہ میں آپ کی ہر شرط کو میں بلا بحث ماننے کے لیے تیار ہوں۔ مگر ندوہ کے ذمہ دار اس پروگرام کو شروع کرنے کی اجازت نہ دے سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1994 All issues

Printed page