smoking is prohibited on domestic flights
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۲
چیزوں کی بے حد اہمیت تھی۔ اس معاملہ میں مسلمانوں کو خذما صفادع ماکدر کے اصول پر عمل کرنا چاہیے تھا۔ مگر انھوں نے انتہا پسندی کا طریقہ اختیار کیا جو بے حد نقصان دہ ثابت ہوا۔ ایک صاحب نے کہا کہ دینی درس گاہیں بنجر ہو چکی ہیں۔ ان کے یہاں زندگی کے سوتے خشک ہو چکے ہیں۔ انھوں نے اپنی تائید میں اقبال کا یہ شعر پڑھا :
گلا تو گھونٹ دیا اہل مدرسہ نے ترا کہاں سے آئے صدالاالٰہ الااللہ میں نے کہا کہ مدارس کے نظام میں بلاشبہ اصلاح کی ضرورت ہے۔ مگر یہ کہنا صحیح نہیں کہ مدارس بالکل بے فائد ہ یا بنجر ہو چکے ہیں، مثال کے طور پر نہ وہ نے عربی زبان و ادب کا ذوق پیدا کیا۔ اس کی وجہ سے ہمارے درمیان ہزاروں کی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو عربی زبان میں لکھنے اور بولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انھیں کی وجہ سے ہندستانی مسلمانوں اور عرب ممالک کے درمیان ربط قائم ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ہندوستان اور ترکی کے درمیان جو دوری ہے وہی دوری ہندوستان اور عرب کے درمیان پیدا ہو جاتی۔
اسی طرح دیوبند نے لاکھوں کی تعداد میں علماء پیدا کیے ۔ یہی علماء ہیں جو امام ، مدرس ، مبلغ، واعظ، مصنف اور دوسری صورتوں میں مسلمانوں کو اسلام سے وابستہ رکھے ہوئے ہیں۔ وہ عام مسلمانوں اور اسلام کے درمیان علمی واسطہ ہیں۔ اگر علماء کا یہ گروہ نہ ہوتا تو عام مسلمان اسی طرح اسلام سے نا آشنا ہو جاتے جس طرح مغربی ملکوں میں جزئی طور پر نظر آتے ہیں۔ مولانا سلطان احمد اصلاحی سے میں نے کہا کہ آپ کوئی ایسی بات بتائیں جو آپ کی ذاتی معرفت ہو ، جس کو آپ نے خود دریافت کیا ہو۔ اس کی مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ حال میں میں نے دوسری بار حجۃ اللہ البالغہ پڑھی ۔ اس کو پڑھنے کے بعد میرا تاثر یہ تھا کہ __ حجۃ اللہ البالغہ دین الہی کی عقلی تبیین نہیں ہے، بلکہ وہ دین الہی کی صرف تقلیدی تبیین ہے “ میں نے کہا کہ ڈھائی سو سال کے درمیان کسی بھی شخص نے یہ بات نہیں کہی ۔ اسی طرح آپ کوئی ایسی نئی بات بتائیے جو آپ کی اپنی دریافت ہو۔ انھوں نے حسب ذیل سطریں ایک کاغذ پر بطور حاصل حیات “ لکھ کر دیا : ” جس کسی مسلمان کی زندگی میں کوئی لمحہ ایسا گزرے جس میں کہ اسے اپنے مولی سے شکایت ہو اور اسے یہ احساس ستائے کہ وہ وہ نہیں ہے جو کہ اسے ہونا چاہیے تھا تو اسے اپنے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1994 All issues