Al-Risala · December 1994 · page 23

smoking is prohibited on domestic flights

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۳

ایمان کی فکر کرنی چاہیے"۔

میں نے کہا کہ یہ تو اعادہ ہے، یہ آپ کی اپنی دریافت نہیں۔

ایک اور صاحب جو اصلاح ملت کے میدان میں کام کرنے کا شوق رکھتے تھے، ان کو میں نے یہ الفاظ لکھ کر دیے : قوم کی خدمت صرف وہ شخص کر سکتا ہے جو قوم کی بے توجہی کے باوجود قوم کی خدمت کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔

لکھنو میں ریلوے اسٹیشن کے پیچھے محلہ ڈیوڑھی آغا میر میں ایک قدیم درگاہ ہے۔ اس کا تعلق اٹھارویں صدی کے ایک صوفی اور عالم شاہ عبد الرحمن الموحد سے ہے۔ وہ بلوچستان کے قریب ایک قصبہ کوٹ مخدوم میں ۱۷۴۷ء میں پیدا ہوئے۔ تقریباً ۲۰ سال کی عمر میں وہ علم ظاہر اور علم باطن کے حصول کے شوق میں گھر سے نکل گئے ۔ اس دوران وہ لکھنو بھی آئے تھے۔ وہ ہندستان کے مختلف شہروں میں علماء و صوفیاء سے کسب فیض کرتے ہوئے سورت پہنچے۔ یہاں کشتی میں سوار ہو کر جدہ کے لیے روانہ ہوئے ۔ ۱۷۹۱ (رمضان ۱۲۰۵ھ) میں وہ مکہ پہنچے۔ حج و زیارت سے فارغ ہو کر ۱۷۹۵ء میں ۲۸ سال کے بعد وہ وطن واپس ہوئے تو معلوم ہوا کہ ان کی ماں کا انتقال ہو چکا ہے (قومی آواز ۲۹ مئی ۱۹۹۲)

یہ دو سو سال پہلے کی بات ہے جب کہ کمیونی نیشن کے مشینی وسائل ظہور میں نہیں آئے تھے۔ اگست ۱۹۴۸ء میں میں دوسری بار لکھنو آیا تھا۔ اس وقت میر الڈا کا شمس الاسلام اعظم گڑھ میں تھا۔ ۵ سال کی عمر میں ، ۲۰ اگست ۱۹۴۸ء کو اچانک اس کا انتقال ہو گیا۔ یہ خبر اسی روز ٹیلی گرام کے ذریعہ مجھے لکھنو میں مل گئی۔ کتنا فرق ہے قدیم دور اور جدید دور میں۔

اس وقت میں جاپلنگ روڈ پر مشتاق احمد انصاری (ڈائرکٹر جیل انڈسٹریز) کے مکان پر تھا۔ جب مجھ کو یہ خبر ملی تو خاموشی کے ساتھ میں لوگوں کے پاس سے اٹھا۔ غسل خانہ میں جاکر وضو کیا اور اس کے بعد لکڑی کے تخت پر دو رکعت نماز ادا کرنے کے لیے کھڑا ہو گیا۔ میں جب کہیں جاتا ہوں تو عام رواج کے تحت مسجد میں مجھ سے نماز پڑھانے کے لیے کہا جاتا ہے۔ یہاں بھی یہ صورت پیش آئی۔ مگر میں نے اپنی عادت کے مطابق ، امامت سے احتراز کیا۔ بعد کو ایک صاحب نے کہا کہ آپ کا طریقہ بزرگوں کے خلاف ہے۔ میں نے فلاں بزرگ کے ساتھ

‹ Previous page Next page › Contents of December 1994 All issues

Printed page