smoking is prohibited on domestic flights
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۴
سفر کیا ہے، وہ جہاں جاتے، ان سے امامت کے لیے کہا جاتا اور وہ شوق سے امامت کا فریضہ ادا کرتے۔
میں نے کہا کہ آپ ان بزرگوں کی پیروی کر رہے ہیں جن کے حق میں اللہ نے کوئی سلطان (آیت) نہیں اتاری۔ اور میں اس بزرگ کی پیروی کرتا ہوں جس کے حق میں اللہ کی سلطان موجود ہے۔ آپ کے مفروضہ بزرگوں کے حق میں قرآن میں کوئی آیت موجود نہیں۔ جب کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں یہ حکم موجود ہے کہ وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا۔
میں نے کہا کہ میں سفر کے مقامات پر امامت سے اس لیے احتراز کرتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ چنانچہ سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ، باب امامت الزائر) میں یہ روایت موجود ہے کہ : من زار قوما فلا يؤمّهم وليؤمّهم رجل منهم (جو شخص کسی قوم میں جائے تو وہ اس کی امامت نہ کرے۔ ان کا مقامی آدمی ان کی امامت کرے) ۲۹ فروری کی سہ پہر کو دار العلوم ندوۃ العلماء دیکھا۔ اس کی طرف چلتے ہوئے میں حضرت گنج کی طرف جانے والی سڑک پر پہنچا تو مجھے ایک واقعہ یاد آگیا جو اسی سڑک پرگزراتھا۔ یہاں یہاں سے میں پیدل گزر رہا تھا۔ ایک موڑپرپہنچاتو میں نے دیکھا کہ ایک نوجوان اپنی بائیسکل تیزی سے دوڑاتا ہوا چلا آرہا ہے۔ موٹر پر پہنچ کر وہ ایک راہ گیر سے ٹکرا گیا جو سڑک کے کنارے آگے کی طرف جارہا تھا۔ راہ گیر گر پڑا اور بائیسکل بھی رک گئی۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان جو گفتگو ہوئی وہ یہ تھی :
گھنٹی کیوں نہیں بجائی گھنٹی نہ ہو تو بریک کیوں نہیں لگایا بریک نہ ہو تو ،تمہارے پاس گھنٹی نہیں، تمھارے پاس بریک نہیں، پھر تم تیز کیوں دوڑاتے ہو کیا تم سے پوچھ کر دوڑاؤں ۲۳ الریال دسمبر ۱۹۹۴ء
‹ Previous page Next page › Contents of December 1994 All issues