smoking is prohibited on domestic flights
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۵
آگے بڑھے تو گومتی کے نئے پل سے گزرتے ہوئے دوبارہ ایک واقعہ یاد آگیا جو اسی پل کے اوپر گزرا تھا۔ اس زمانہ میں یہاں ایک ڈاکٹر سمیع اللہ خاں تھے۔ انھوں نے فلسف میں ڈاکٹریٹ کیا تھا اور برٹش ڈرڈسل سے بہت زیادہ متاثر تھے۔ ہم دونوں اس پل سے بات کرتے ہوئے گزر رہے تھے۔ اچانک ڈاکٹر سمیع اللہ صاحب نے کہا کہ خدا کو ثابت کرنے کے لیے آپ کے پاس کری ایٹرین کیا ہے۔ میں نے کہا: وہی کری ایٹرین جو آپ کے پاس کوئی چیز ثابت کرنے کے لیے ہو۔ میرے اس جواب کے بعد ڈاکٹر سمیع اللہ صاحب خاموش ہو گئے ۔ یہ شاید میری زندگی کی سب سے زیادہ کامیاب گفتگو ہے جو صرف ایک بار پیش آئی۔
دار العلوم ندوہ پہنچے تو وہاں کا پورا نقشہ بدلا ہوا تھا۔ میرے زمانہ قیام میں ندوہ، عمارت کی حیثیت سے، ایک معمولی مدرسہ تھا۔ آج وہ عمارتوں کی کثرت سے ایک پوری یونی ورسٹی معلوم ہوتا ہے۔ اس کو دیکھ کر میں نے سوچا کہ ندوہ کے لوگ پر جوش طور پر یہ تقریریں کر رہے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا قومی وجود خطرہ میں پڑ گیا ہے۔ فرقہ پرست طاقتیں ان کے تشخص کو مٹانے کی مسلسل کوشش کر رہی ہیں۔ مگر ندوہ نے ۱۹۴۷کے بعد جس طرح غیر معمولی ترقی کی ہے، اس کے لحاظ سے دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ اہلِ ندوہ کے پاس اس سے کہیں زیادہ بڑی ایک اور خبر ہے، مگر وہ اس کو اپنی تقریروں اور تحریروں میں ظاہر نہیں کرتے۔ وہ مسلمانوں کو یہ قیمتی خبر دے سکتے ہیں کہ اس ملک میں دشمنوں کی سازشوں اور مخالفانہ سرگرمیوں کے باوجود یہ موقع ہے کہ ایک مدرسہ کو پچاس سال کے اندر یونی ورسٹی کے درجے تک پہنچا دیا جائے اور کوئی دشمن اس کی ترقی کو روک نہ سکے۔ مولانا ابو الحسن علی ندوی کی ایک تقریر ندوہ کے تعمیر حیات (۲۵ اپریل (۱۹۸۶) میں شائع ہوئی تھی۔ اس میں انھوں نے کہا تھا کہ بڑے فخر کی بات ہے کہ تحفظ شریعت کی موجودہ تحریک کی قیادت اعلیٰ تعلیم یافتہ اور وہ لوگ کر رہے ہیں جنھوں نے دنیا بہت سے دوسرے ترقی پسند لوگوں اور پروگریسیو گروہ سے زیادہ دیکھی ہے۔ جنھوں نے مغربی تہذیب کا مطالعہ ان سے زیادہ گہری نظر اور وسیع نظر سے کیا ہے ۔ وہ یورپ کی اور مشرق کی تاریخ پر ان سے زیادہ وسیع اور عمیق نظر رکھتے ہیں“۔
اس سلسلہ میں راقم الحروف نے یکم مئی ۱۹۸۶ کو ایک خط ایڈیٹر تعمیر حیات کے نام روانہ کیا ۲۵ ال سال دسمبر ۱۹۹۴
‹ Previous page Next page › Contents of December 1994 All issues