Al-Risala · December 1994 · page 26

smoking is prohibited on domestic flights

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۶

اور ان کو لکھا کہ مولانا علی میاں نے مغربی تہذیب اور عالمی تاریخ کے ماہرین کی جس جماعت کا ذکر کیا ہے ان میں سے صرف ایک صاحب کا نام اور پتہ تحریر فرمائیں۔

اس کے جواب میں مجھے تعمیر حیات کے ایڈیٹر صاحب کا خط مورخہ ۲۹ شعبان ۱۴۰۶ ھ ملا۔ انھوں نے اس کے جواب میں میرا نام لکھ دیا اور تحریر فرمایا کہ آپ خود جس طرح نئی تہذیب کے مسائل کی تحلیل و تجزیہ کرتے ہیں ، کیا وہ یورپ سے قریب رہنے والوں کے مقابلہ میں برتری کی دلیل نہیں ہے؟“ میرے سوال کا جواب نہیں تھا۔ چنانچہ اس کے بعد میں نے براہ راست مولانا ابوالحسن علی ندوی کو اپنا خط مورخہ ۲۹ مئی ۱۹۸۶ء روانہ کیا۔ اور لکھا کہ مجھے صرف ایک نام اور پتہ لکھ کر بھیج دیں۔ اس کے جواب میں ان کا خط مورخہ ۱۷ رمضان ۱۴۰۶ ھ موصول ہوا۔ ان کے جواب کے الفاظ یہ تھے : آپ نے ان کے چند نام پوچھے ہیں۔ میں دو ہی نام کافی سمجھتا ہوں۔ ایک مولانا وحید الدین خاں صاحب اور ایک یہ ناچیز میر انیس (۱۸۱۴-۱۸۰۱ء) اُردو کے مشہور شاعر گزرے ہیں۔ انھوں نے لکھنؤ کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا :

ہر دل ہے عندلیب گلستان لکھنؤ رضواں بھی ہے جناں میں ثناخوان لکھنؤ مولانا شبلی نعمانی (۱۹۱۴-۱۸۵۷ء) بھی لکھنؤ کو بہت پسند کرتے تھے۔ اس کے بعد وہ ریاست جنجیرہ گئے۔ وہاں انھوں نے قدرتی مناظر کو دیکھا تو لکھنؤ کے تمدنی حسن پر جنجیرہ کا قدرتی حسن غالب آگیا۔ انھوں نے عطیہ فیضی کو خطاب کرتے ہوئے کہا :

کہاں یہ لطف یہ منظر یہ سبزہ یہ بہارستاں عطیہ تم کو یاد لکھنؤ ہوگی تو کیوں ہوگی آج لکھنؤ کی حیثیت بڑے شہروں کے مقابلہ میں ایک گاؤں جیسی ہے ۔ ۲۸ فروری کو ائیر پورٹ سے آتے ہوئے جب ہم شہر میں داخل ہوئے تو مولانا انیس الرحمن فلاحی نے بتایا کہ میں اس سے پہلے بمبئی میں رہتا تھا ۔ اب میں بمبئی چھوڑ کر لکھنؤ آ گیا ہوں ۔ چند مہینہ یہاں رہنے کے بعد میری چھوٹی بچی زریں (۹ سال) نے کہا : ابا جان ، دیہات میں ہم لوگ کئی مہینہ رہ چکے ، اب آپ شہر چلیے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1994 All issues

Printed page