smoking is prohibited on domestic flights
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۷
آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا کے مطابق، لکھنؤ میں ۷۹، پرانی عمارتیں (آثار قدیمہ) پائے جاتے ہیں۔ شہر کی سڑکوں سے گزرتے ہوئے ان میں سے کئی عمارتیں دیکھیں۔ تاہم بیلی گارڈ میں داخل ہو کر اس کو زیادہ تفصیل کے ساتھ دیکھنے کا موقع ملا۔
اینگلو اودھ ٹریٹی ۷۵ء میں کیا گیا ۔ اس کے بعد سے برٹش انڈیا کمپنی کا ایک نما ئندہ لکھنؤ میں اس مقام پر رہنے لگا جس کو آج بیلی گارڈ کہا جاتا ہے۔ مشہور بغاوت (غدر) کے زمانہ میں ۳۰ جون، ۱۸۵۰ء کو باغی فوجیوں نے بیلی گارڈ کو گھیر لیا۔ اس کے اندر اس وقت تقریباً ہزار انگریز اور ان کے وفادار سپاہی جمع تھے ۔ دو مہینے سے زیادہ مدت تک محاصرہ جاری رہا۔ اس دوران باغی فوج مسلسل توپوں کے ذریعہ گولہ باری کرتی رہی۔ بیلی گارڈ کی عمارتوں پر گولے لگنے کے نشانات آج بھی موجود ہیں۔ داغے ہوئے گولے بھی بعد کو جمع کرکے اس کے میوزیم میں رکھے گئے ہیں۔ اس کے احاطہ کے اندر ایک مسجد تھی ۔ اس کے اونچے مینار گولہ باری سے ہل گئے تھے ۔ چنانچہ بعد کو دونوں میناروں کو لوہے کے مضبوط شکنجے میں باندھ دیا گیا جو آج تک اسی حالت میں موجود ہے۔ آخر کار سرکولن کمپیل کا نپور سے فوج لے کر آیا اور باغیوں سے لڑکر ۲۵ستمبر۱۸۵۷کو محاصرہ کا خاتمہ کیا یکم مارچ ۱۹۹۲ کو جناب نثز جلیل صاحب اور چند ساتھیوں کے ہمراہ میں نے اس مقام کو دیکھا۔ اس کو دیکھتے ہوئے جب میں اس کے تہ خانے کے اندر پہنچا اس وقت یہ راز دریافت ہوا کہ طویل محاصرہ اور گولہ باری کے باوجود محصور افراد یہاں کس طرح زندہ بچے۔ بیلی گارڈ کے بیچ میں ایک قدیم عمارت ہے۔ اس عمارت کے نیچے ایک وسیع تہ خانہ ہے جو۴۵سیڑھیاں اترکر ملتاہے ۔ محاصرہ کے دوران انگریز خاندانوں نے اسی تہ خانہ میں پناہ لی تھی۔ ان میں برٹش کمشنر سرہنری لارنس بھی شامل تھے ۔ یہ لوگ کئی مہینے تک اس میں محصور رہے۔ انگریز جب لکھنؤ میں داخل ہوئے تو خطرہ کا پیشگی اندازہ کر کے یہ وسیع اور مضبوط تہ خانہ بنایا تھا۔ اس تہ خانہ میں روشنی اور ہوا کا اتنا اچھا انتظام ہے کہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ معروف معنوں میں وہ کوئی تہ خانہ ہے۔ یہی تہ خانہ طویل محاصرہ کے دوران انگریز خاندانوں کو بچانے کا سبب بنا۔ باغی فوجوں نے توپ خانہ اپنے قبضہ میں لے لیا تھا۔ کئی مہینہ تک وہ اس پورے علاقہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 1994 All issues