Al-Risala · December 1994 · page 29

smoking is prohibited on domestic flights

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۲۹

میں ان کا انتقال ہو گیا۔ مولانا مرحوم نے اپنے صاحب زادہ (نثر جلیل صاحب) کو ایک خط لکھا۔ اس میں کسی واقعہ کا ذکر کیے بغیر یہ درج تھا :

"تم اگر ایمان داری کرو تو تم کسی کے اوپر احسان نہیں کرتے ہو، بلکہ صرف اپنی ملازمت کے تقاضے پورے کر رہے ہو۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ بد اخلاقی سے برتی گئی ایمان داری اپنا وقار کھو دیتی ہے۔ "

نثر جلیل صاحب نے کہا کہ والد صاحب کے اس خط کو پڑھ کر میں نے اپنے کو بُونا محسوس کیا۔ اسی طرح شروع ملازمت میں نثر جلیل صاحب نے عدالت کے ماحول کے بارہ میں شکایت کی۔ مولانا عبد المیع صاحب نے کہا : ایمان داری کا تعلق انسان کے ضمیر سے ہوتا ہے۔ دوسروں سے حاصل کردہ سرٹیفکٹ کی بنا پر کوئی شخص ایمان دار نہیں ہو سکتا۔ ہر انسان اس معاملہ میں اپنا جج آپ ہے۔ مولانا عبد المیع ایک پختہ کانگریسی تھے۔

ایک صاحب نے کہا کہ انڈیا میں اسلام کو بیخ وبن سے اکھاڑنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ جس طرح قدیم ہندوستان میں یہاں خون کی ندیاں بہادی گئیں اسی طرح آج بھی یہ سازش کی جارہی ہے کہ دوبارہ مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہائی جائیں۔ میں نے کہا کہ اگر فی الواقع ایسا ہے تو میں آپ کو اور مسلمانوں کو مبارکباد دیتا ہوں کہ اتنی خطرناک سازش کے باوجود اب بھی آپ کے لیے ممکن ہے کہ اتر پردیش جیسی ریاست کی مین راج دھانی میں موجودہ سیمنار جیسا شاندار اسلامی اجتماع کر سکیں۔ ایسی حالت میں تو آپ کو پریشان ہونے کے بجائے خوش ہونا چاہیے۔

ایک موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مجھے مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کی کانفرنسوں میں شرکت کا بار بار اتفاق ہوا ہے۔ میرا احساس یہ ہے کہ مسلمان ہمیشہ مقام عظمت سے بولتا ہے اور دوسرے لوگ مقام حقیقت سے۔ مسلمانوں میں تخیلاتی اپروچ ہے اور دوسروں میں حقیقت پسندانہ اپروچ۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مسلمان اس پیغمبر کو بھول چکے ہیں جس نے کہا تھا کہ یا عمر انا قلیل، اور (اصبروا فانی لم او مر بالقتال) ۔ وہ صرف اس پیغمبر کو جانتے ہیں جس کی زبان سے یہ آیت جاری ہوئی کہ قاتلوهم حتى لا تكون فتنة۔ موجودہ مسلمانوں کو پیغمبر کی زندگی کا صرف نصف حصہ معلوم ہے۔ بقیہ نصف حصہ کی انہیں خبر نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 1994 All issues

Printed page