smoking is prohibited on domestic flights
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۰
شہر کے درمیان چلتے ہوئے ایک بار لکھنو اسٹیشن سے گزرا۔ اس کا نقشہ اب بھی وہی تھا جس کو میں نے چالیس سال پہلے دیکھا تھا۔ مسافروں کی آمد و رفت کی سطح پر زندگی متحرک تھی، مگر در و دیوار کی سطح پر زندگی ٹھہری ہوئی نظر آئی۔
پہلی بار اس اسٹیشن پر غالباً میں ان ۱۹ میں اترا تھا۔ میرے عزیز اور بچپن کے ساتھی مسٹر عتیق احمد انصاری یہاں جا پلنگ روڈ پر اپنے والد مسٹر مشتاق احمد انصاری کے ساتھ رہتے تھے جو جیل انڈسٹریز میں ڈائرکٹرتھے عتیق احمد صاحب سخت بیمار ہو گئے تھے۔ ان کو دیکھنے کے لیے میں اہل خاندان کے ساتھ لکھنو آیا تھا۔
لکھنو میں کچھ وقت مسٹر مسعود احمد کے مکان (گلستان طلبہ) پر گزرا۔ مسٹر مسعود کی والدہ انگریزی بالکل نہیں جانتی تھیں۔ مسٹر مسعود نے بی ایس سی تک کی تعلیم کالج میں حاصل کی۔ اب مسٹر مسعود کے بچے انگریزی اسکولوں میں پڑھ رہے ہیں۔ ان کی لڑکی کو انگریزی ادب کا اتنا شوق ہے کہ وہ انگریزی زبان میں اشعار موزوں کرتی ہیں۔ ان کی ایک نظم (When Nobody Cares) یہ ہے : With no one to care, Life's full of despair, Life seems like a burden Which no one can share, There's sadness all round, In grief you are bound Your e'er want to cry, Oft longing to die. God forgive me, you say, That's not the right way. Face up to the knocks and the challenges of life For love, care and happiness Never come without strife. ۴۹ ٕ تک یہ حال تھا کہ مسلمان انگریزی پڑھنے کو نہایت برا سمجھتے تھے۔ آج یہ حال ہے کہ مسلمان انگریزی پڑھنے کو فخر سمجھتے ہیں۔ لیکن انگریزی زبان کو برا سمجھنا جتنا غلط تھا، اتنا ہی غلط یہ بھی ہے کہ اس پر فخر کیا جائے ۔ اصل یہ ہے کہ زبان انسان کی ضرورتوں میں سے ایک ضرورت ہے۔ وہ نہ کوئی عیب کی چیز ہے اور نہ فخر و ناز کی کوئی چیز۔ لکھنو کی ایک مشہور شخصیت منشی نول کشور (۱۸۹۵ ۔ ۱۸۳۶) ہیں۔ انھوں نے ۱۹ ویں صدی
‹ Previous page Next page › Contents of December 1994 All issues