Al-Risala · December 1994 · page 31

smoking is prohibited on domestic flights

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۱

کے نصف آخر میں اردو زبان و ادب کی جو خدمت کی اب بھی اس کی کوئی مثال موجود نہیں۔ ۔ انھوںنے ۱۸۵۸میں لکھنؤمیں مطبع نول کشور قائم کیا۔ سرمایے کی کمی کی بنا پر اس وقت ان کا یہ حال تھا کہ ’’سرکاری کا غذات طباعت کے بعد خود کاندھوں پر اٹھا کر دفتروں میں پہنچاتے تھے ۔ ‘‘ (قومی آواز، ۸ دسمبر ۱۹۹۱)

منشی نول کشور اسی زمانہ میں کلکتہ گئے۔ ان کو وائسرائے کے دربار میں مدعو کیا گیا تھا۔ انہوں نے دیکھا کہ کاغذ سے لدا ہوا ایک جہاز یورپ سے آیا ہوا ہے مگر سامان کی ظاہری حالت اچھی نہ دیکھ کر تاجر اس کی قیمت بہت کم لگا رہے ہیں، منشی نول کشور نے دام بڑھا کر اس کو خرید لیا۔ سامان جہاز سے نکالا گیا تو معلوم ہوا کہ اندر کے کاغذات نہایت اچھے ہیں۔ منشی صاحب نے کاغذ کی نصف مقدار کلکتہ میں اچھے دام پر فروخت کر دی اور آدھی مقدار کو لکھنؤ لے آئے۔ اس سودے میں ان کو اتنا زیادہ فائدہ ہوا کہ اس کی رقم سے انھوں نے لکھنؤ میں ایک بڑا مکان (کوٹھی غالب جنگ) خریدی اور نیا پریس لگایا۔

اس دنیا میں خطرہ کے بغیر فائدہ نہیں (No risk no gain) کا اصول رائج ہے۔ یہاں وہی لوگ بڑی کامیابی حاصل کرتے ہیں جو خطرہ مول لے کر اقدام کرنے کاحوصلہ رکھتے ہوں ۔ آپ منشی نول کشور کی تصویر دیکھیں تو وہ داڑھی اور پگڑی اور انگ رکھا کے ساتھ اپنی صورت کے اعتبار سے بالکل مسلمان نظر آئیں گے۔ اس زمانہ میں ہندوؤں کا کلچر عام طور پر وہی تھا جو مسلمانوں کا کلچر تھا۔ زبان اور طرز رہائش کے اعتبار سے دونوں میں کوئی ظاہری فرق پایا نہیں جاتا تھا۔ ایک صاحب نے ہندوستان ٹائمس (۸ دسمبر ۱۹۹۱) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارادے کیا ہیں۔ پارٹی کے چیف مسٹر منوہر جوشی نے اپنے مذکورہ انٹرویو میں کہا ہے کہ مسلمان ہندو ہیں :

Muslims are Hindus because they live in Hindustan. میں نے کہا کہ ۱۹ ویں صدی کے آخر تک یہی صورت حال برعکس صورت میں قائم تھی۔ مسلم سیاست کے دباؤ کے نتیجہ میں ہندو اپنی زبان اور کلچر کے اعتبار سے بظاہر مسلمان بنے ہوئے تھے۔ کیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام ہندو مسلمان ہو گئے ۔ آپ جانتے ہیں کہ وہی ہندوآج خود مسلمانوں کے لیے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1994 All issues

Printed page