Al-Risala · December 1994 · page 32

smoking is prohibited on domestic flights

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۲

چیلنج بنے ہوئے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ مسلمان ہندو ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس طرح کی چیزوں کسی قوم کے تشخص کو نہیں بدلتیں ہماری نظر خود اپنی اندرونی طاقت پر ہونی چاہیے نہ کہ خارجی نعروں پر۔

ایک ہندو ودوان سے ملاقات ہوئی۔ وہ ۶۶ سال کی عمر کے تھے اور راجہ گونڈہ کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ کئی زبانیں جانتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں پکا ہندو ہوں مگر میں روزانہ رامائن اور بائبل اور قرآن کو پڑھتا ہوں۔ اس کے بعد انھوں نے کہا: مگر معاف کیجیے ، آپ کے قرآن میں ترتیب نہیں ہے۔

میں نے کہا کہ بات یوں نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ قرآن خدائی اسلوب میں ہے اور دوسری کتابیں انسانی اسلوب میں۔

انسانی اسلوب میں بیان واقع کا انداز ہوتا ہے۔ اس میں کوئی بات اس وقت سمجھ میں آتی ہے جب کہ آدمی اول سے آخر تک اسے پڑھ ڈالے۔ مثلاً بائبل میں اگر آپ پیدائش یا خروج کا باب پڑھیں تو ۵۰ صفحہ ختم کرنے کے بعد بات مکمل ہوگی۔ آپ پچاس صفحہ پڑھنے کے بعد سمجھیں گے کہ اس میں کہنے والے نے کیا کہا ہے۔

مگر قرآن کا انداز واقعاتی نہیں بلکہ تذکیری ہے۔ قرآنی اسلوب کی حکمت یہ ہے کہ آپ چند ، سطریں یا ایک صفحہ بھی پڑھیں تو آپ کو نصیحت کی ایک بات مل جائے۔ چنانچہ آپ قرآن کا کوئی بھی صفحہ کھولیں۔ چند سطر پڑھتے ہی آپ کو کوئی نہ کوئی سبق یا نصیحت کی بات پالیں گے۔ قرآن کی بظاہر بے ترتیبی کثرت اسباق کی بنا پر ہے۔ آپ جب بھی کوئی ایسی کتاب لکھیں جس کا مقصد وہ ہو جو قرآن کا مقصد ہے تو اس کے اندر تعدد مضامین کی وہی کیفیت پیدا ہو جائے گی جس کو آپ بے ترتیبی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ مذکورہ ہندو سے ملاقات مسعود صاحب کی دکان پر ہوئی۔ اگست ۱۹۴۸ء میں میں اعظم گڑھ میں تھا۔ میرے بڑے بھائی عبد العزیز خاں صاحب کو اپنڈکس کا شدید درد اٹھا۔ مقامی سرجن ڈاکٹر انیس کو بلایا گیا۔ انھوں نے دیکھنے کے بعد کہا کہ ان کو فوراً لکھنؤ لے جائیے اور وہاں آپریشن کر وایئے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب، اپنڈکس کا آپریشن تو موجودہ زمانہ میں کوئی میجر آپریشن نہیں سمجھا جاتا۔ پھر اس کے لیے آپ ہم کو لکھنؤ کیوں بھیج رہے

‹ Previous page Next page › Contents of December 1994 All issues

Printed page