smoking is prohibited on domestic flights
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۳
ہیں۔ یہیں اعظم گڑھ کے اسپتال میں اس کا آپریشن کیوں نہیں کر دیتے ۔
انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس تربیت یافتہ ہینڈ نہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپریشن ایک بے حد نازک کام ہے۔ اس کام کے لیے ایسے ساتھی کا ہونا ضروری ہے جو بتائے بغیر باتوں کو جانے ۔ مثلاً ہم نے پیٹ کو چاک کر کے اپنڈکس کا آپریشن کر لیا۔ اب ضرورت ہے کہ پیٹ کے چاک کو دوبارہ سلا جائے ۔ اس وقت اگر ہم کو باریک دھاگے کی ضرورت ہے۔ اور ہمارا ساتھی موٹا دھاگہ یا سوئی میں ڈال کر ہمیں دینے لگے تو یہ مہلک ہوگا۔ اس وقت ہمارے لیے یہ موقع نہیں ہوتا کہ ہم بتائیں کہ ہمیں کس قسم کا دھاگا چاہیے ۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا : میرے ساتھی کو جاننا چاہیے کہ آیندہ میں کیا کرنے والا ہوں۔
ڈاکٹر انھیں کے یہ الفاظ آج تک میرے کانوں میں گونج رہے ہیں۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ ایک سرجن کو جس قسم کے ہینڈ کی ضرورت ہوتی ہے، اسی قسم کے ہینڈ کی ضرورت ایک رہنما کو بھی ہے۔ ایسے افراد نہ ہوں تو ایک رہنما بھی اسی طرح اپنا کام صحیح طور پر انجام نہیں دے سکتا جس طرح ایک سرجن۔
ڈاکٹر صاحب کے مشورہ کے مطابق، ہم فوری طور پر بذریعہ کار لکھنؤ کے لیے روانہ ہوئے اور رات بھر سفر کر کے صبح کے وقت لکھنؤ پہنچے۔ اس سفر میں میرے ساتھ مولانا اقبال احمد سہیل کے صاحبزادہ مسٹریمین الاسلام خاں بھی تھے۔ لکھنؤ میں ہم لوگ ۶، جانلنگ روڈ پر ٹھہرے ۔ میڈیکل کالج کے اسپتال میں بھائی صاحب کا آپریشن ہوا۔ آپریشن کے بعد کا وہ منظر اب تک مجھے یاد ہے جب کہ بھائی صاحب پانی کے لیے تڑپ رہے تھے اور ہم لوگ ، ڈاکٹر کی ہدایت کی بنا پر انھیں پانی کا گلاس دینے سے معذور تھے۔
جن دنوں بھائی صاحب لکھنؤ کے میڈیکل کالج اسپتال میں داخل تھے، مجھ کو روزانہ وہاں جانا ہوتا تھا۔ یہاں میڈیکل کالج سے ملا ہوا شاہ مینا (وفات ۱۹۷۰ء) کا مزار تھا۔ ایک روز میں مزار کے اندر گیا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ لوگ قبر کے چاروں طرف سجدہ کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔ یہ منظر میں نے پہلی بار دیکھا تھا، چنانچہ مجھے سخت جھٹکا لگا۔ میں وہاں سے چل کر اس کمرہ میں آیا جہاں گدے اور مسند کے اوپر کچھ موٹے موٹے افراد بیٹھے ہوئے تھے، وہ غالباًمجاورصاحبان تھے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1994 All issues