smoking is prohibited on domestic flights
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۴
میں ان کے سامنے ادب سے کھڑا ہو گیا اور نہایت نرمی سے کہا کہ یہاں میں نے دیکھا کہ لوگ قبر کو سجدہ کر رہے ہیں۔ یہ تو اسلام میں حرام ہے۔ کیوں کہ سجدہ صرف ایک اللہ کے لیے ہے۔ ان میں سے ایک شخص بولا: ادھر کونے میں دیکھئے۔ میں نے دیکھا تو وہاں بانس کی کئی لاٹھیاں کھڑی کی ہوئی تھیں۔ اس کے بعد انھوں نے کہا: آپ کا جواب اسی سے دیا جائے گا۔ اتنے میں ایک شخص نے مجھے پیچھے سے کھینچا۔ وہ غالباً یہاں کا چپراسی تھا۔ وہ مجھ کو کمرہ سے باہر لے گیا اور کہا: میاں صاحب زادے، جاؤ، اپنا کام کرو۔ میں خاموشی کے ساتھ وہاں سے چلا آیا۔
لکھنؤ کے اجتماع میں مولانا عبدالغفار ندوی (۳۷ سال) سے بھی ملاقات ہوئی۔ ان سے مل کر کئی باتیں یاد آگئیں۔ ۱۹۴۸ء میں غالباً دوسری بار میں لکھنؤ آیا تھا۔ اس وقت مولانا عبدالغفار صاحب سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ اس وقت وہ لکھنؤ میں جماعت اسلامی کے واحد رکن تھے اور جھاؤ لال کے پل پر ایک بوسیدہ کمرہ میں جماعتی پروگرام کے تحت ہفتہ وار اجتماع کیا کرتے تھے۔ ایک عرصہ تک وہ تنہا یہ اجتماع کرتے رہے۔ کیوں کہ ان کی اکیلی ذات کے سوا کوئی اس میں شرکت کرنے والا اس وقت یہاں موجود نہ تھا۔ آخر کار ایک قافلہ بنا۔ اب لکھنؤ میں پانچ مختلف مقامات پر جماعت اسلامی کے پانچ اجتماعات ہوتے ہیں۔ ان میں شرکا کی مجموعی تعداد تقریباً ڈیڑھ ہزار ہوتی ہے۔
مولانا عبدالغفار ندوی کے ایک ایسے اجتماع میں میں بھی شریک ہوا ہوں جس میں صرف ہم دو آدمی تھے۔ انھوں نے جماعت اسلامی کی کسی کتاب کا ایک حصہ پڑھا۔ عام طور پر وہ خود ہی پڑھتے تھے اور خود ہی سنتے تھے۔ مگر اس دن ایک سنانے والا تھا، اور ایک سننے والا۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی (۱۹۷۹-۱۹۰۳) ایک سے زیادہ بار لکھنؤ آئے تھے۔ ان کی پہلی آمد کا ذکر کرتے ہوئے مولانا ابوالحسن علی ندوی لکھتے ہیں :
’’مولانامودودی جنوری۱۹۴۱میں لکھنؤتشریف لائے۔ یہ زمانہ مسلمانوں میں بڑی بے چینی اور جوش و سرگرمی کا تھا۔ مولانا کے پرزور، فکر انگیز مضامین نے اسلامی حلقوں میں ایک جنبش اور اور حرکت پیدا کر دی تھی۔ نوجوان اسلام کی اُس ترجمانی کے دلدادہ تھے جو بلند سطح سے اور پر از اعتماد لہجے میں کی جائے اور مسلمانوں میں امنگ، حوصلہ اور اپنے ماضی اور تہذیب پر اعتماد پیدا
‹ Previous page Next page › Contents of December 1994 All issues