smoking is prohibited on domestic flights
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۶
پڑھنے کا حاصل ہے "ان کے نزدیک یہ مقصد اس طرح حاصل ہوتا ہے کہ آدمی یہ احساس کر کے قرآن سنے کہ یہ میرے اللہ کا کلام ہے اور اللہ مجھ سے مخاطب ہے۔ مراسلہ نگار کا خیال تھا کہ قرآن مجید سے اگر سائنسی اور فلسفیانہ مسائل کا حل ڈھونڈا جانے لگے تو اس سے قرآن شریف پڑھنے کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔
یہ حضرات قرآن کو صرف تلاوت کی کتاب سمجھتے ہیں، وہ اس کو تدبر کی کتاب نہیں سمجھتے۔ حالانکہ قرآن کا اپنا بیان یہ ہے کہ قرآن کے تمام اعلیٰ فوائد اس پر تدبر و تفکر ہی کے ذریعہ حاصل ہوتے ہیں۔
مثلاً قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا۔ پھر ہم نے اس سے مختلف رنگوں کے پھل پیدا کر دیے۔ اور پہاڑوں میں بھی سفید اور سرخ، مختلف رنگوں کے ٹکڑے ہیں اور گہرے سیاہ بھی۔ اور اسی طرح انسانوں اور جانوروں میں اور چوپایوں میں بھی مختلف رنگ کے ہیں۔ اللہ سے اس کے بندوں میں سے صرف وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔ بے شک اللہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے (فاطر ۲۷۔ ۲۸)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ خشیتِ الٰہی کا تعلق علوم فطرت میں واقفیت اور غور و فکر سے ہے۔ ایسی حالت میں جو لوگ تدبر کو غیر اہم اور تلاوت کو اہم بتائیں وہ یقیناً قرآن کے بارہ میں ایک نازیباجسارت کررہے ہیں۔
ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے درمیان ڈائیلاگ ختم ہو گیا ہے۔ لوگ صرف دو بات سننا چاہتے ہیں— اپنی تائید یا اپنے دشمن کی تردید۔ کوئی بھی شخص اختلافی موضوع پر کھلے ذہن کے ساتھ تبادلۂ خیال کے لیے تیار نہیں۔
میں نے خود لکھنؤ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ۱۹۴۶۔ ۱۹۴۷ء میں مولانا ابوالحسن علی ندوی "ملاحظہ جاتی سیاست" کے زبردست حامی بنے ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اپوزیشن پارٹیوں سے مل کر کانگریس کو ہرانا چاہے۔ اپنی نقصان رسانی کی صلاحیت کا استعمال کر کے ہم اپنا حق وصول کرسکتے ہیں۔ اپنی تقریروں میں وہ جوش کے ساتھ یہ شعر پڑھا کرتے تھے :
‹ Previous page Next page › Contents of December 1994 All issues