Al-Risala · December 1994 · page 38

smoking is prohibited on domestic flights

الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۳۸

کی نیند اڑ جاتی۔ مجھے وہ وقت اچھی طرح یاد ہے جب الیکشن (اگست، ۱۹۰) سے پہلے لکھنو کے ایک شاندار اجتماع میں اس قبیلۂ قیادت کے ایک نمایاں ترین بزرگ اپنی خطابت کے جوہر دکھار ہے رہے تھے اور میرا حال یہ تھا کہ میں سامعین کے مجمع میں بیٹھاہوازاروقطار رورہاتھا۔ انتہائی انتہائی بے تابی کے عالم میں بار بار میری زبان سے یہ الفاظ نکل رہے تھے: خدایا، جس ملت کے ناخدا ایسے نادان مقررین ہو جائیں اس ملت کا انجام کیا ہوگا۔ ' (المجمعۃ وکیل، ۲۰ اکتوبر، ۱۹۹۷، صفحہ (۱۶) ایک ہندو بھائی سے ملاقات ہوئی۔ ان کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی سے تھا۔ انھوں نے کہا کہ ۱۹۹۱ کے الیکشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی رام مندر کی تعمیر کا نعرہ لے کر چناؤ لڑی اور بھاری ووٹوں سے کامیاب ہوئی۔ اس طرح یوپی کے ووٹوں کی اکثریت نے اس کو حق دے دیا کہ وہ رام مندر بنائے تو اب جمہوری منطق کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کو رام مندر کی تعمیر کا حق ہونا چاہیے اور کسی کو اس میں رکاوٹ نہیں ڈالنا چاہیے ۔

میں نے کہا کہ آپ نے ادھوری بات کہی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا نعرہ تین چیزوں کے لیے تھا روٹی ، انصاف اور رام مندر۔ کیا آپ کی پارٹی نے ریاست میں پہلا دونوں کام کر لیا ہے کہ اب وہ تیسرے کو کرنے کے لیے بے قرار ہو رہے ہیں۔

۱۹۹۱ کے الیکشن میں اگر چہ بی جے پی اس حد تک کامیاب ہوئی کہ اس نے یوپی میں ریاستی گورنمنٹ بنائی۔ مگر رپورٹوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ بی جے پی کے اندرونی حلقے اپنے مستقبل کے بارہ میں مایوسی میں مبتلا ہیں۔ بی جے پی کے ایک ممبر نے کہا : کہا:ہم دونوں بار آپھیل رہے ٹائمز آف انڈیا ۱۰ فروری (۱۹۹۲)

شری لال کرشن ایڈوانی نے پہلی رتھ یاترا نکالی۔ اس کو سومناتھ سے روانہ ہو کر ایودھیا پہنچنا تھا۔ مگر وہ ایودھیا پہنچنے سے پہلے بہار میں ختم ہوگئی۔ اس کے بعد شری مرلی منوہرجوشی نے دوسری رتھ یاترا نکالی۔ اس کو کنیا کماری سے چل کر ۲۶ جنوری ۱۹۹۲ کو سری نگر پہنچنا تھا۔ مگر جموں پہنچ کر وہ بھی منتشر ہوگئی۔

منفی بنیاد پر اٹھنے والی تحریکیں ہمیشہ ناکامی سے دوچار ہوتی ہیں۔ ایسی کسی تحریک کے بارہ میں بہترین تدبیر یہ ہے کہ رد عمل کے بجائے انتظار کی پالیسی اختیار کی جائے۔ رد عمل کی پالیسی

‹ Previous page Next page › Contents of December 1994 All issues

Printed page