smoking is prohibited on domestic flights
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۴۱
ڈاکٹر ظفر الاسلام کو تعلیم کے لیے قاہرہ بھیجا تھا۔ مولانا کو اس سے اتفاق نہ تھا۔ کیوں کہ قاہرہ کو مقبرہ کہتے تھے ۔ مذکورہ مضمون پڑھنے کے بعد مولانا نے مجھے لکھا : آپ نے اپنے بیٹے کو دیوار پر قہقہہ پھندا ہی دی ۔
شخصیتوں پر مضمون لکھنے کا مجھے ذوق نہیں۔ تاہم مولانا عبد الباری ندوی پر میں نے ایک مضمون لکھا تھا جو اسی زمانہ میں الجمعیۃ کے دو قسطوں (۷ مارچ ، ۴۱ ، مارچ ۱۹۶۹) میں چھپا تھا۔ اس کا عنوان تھا : " مسٹر مولوی " مسٹر مولوی ، مولانا مرحوم کا دہ نام ہے جو مسٹر بین (F.W. Bain) نے ان کو دیا تھا۔ مسٹر بین دکن کالج پونہ کے پرنسپل تھے ۔ مولانا اس کالج میں ۱۹۱۴ میں فارسی کے استاد کی حیثیت سے آئے اور تقریباً چار سال یہاں رہے ۔ الجمعیۃ کے مضمون کا ایک حصہ یہاں نقل کیا جاتا ہے : مسٹر بین ، مولانا کے الفاظ میں ، اپنی قسم کا انوکھا آدمی تھا۔ مولانا عبد الباری نے فرمایا کہ اس طرح کا آدمی میں نے اپنی زندگی میں دوسرا نہیں دیکھا ۔ مسٹر بین انگلینڈ جانے لگے تو انھوں نے وداعی پارٹی میں بولتے ہوئے کہا کہ مسٹر مولوی کبھی میرے بنگلے پر مجھ سے ملنے نہیں آئے ۔ انھوں نے کبھی میرے نام کرسمس کارڈ نہیں بھیجا۔ کبھی کوئی تحفہ مجھ کو پیش نہیں کیا۔ مگر اس کے باوجود میں ان سے بہت خوش ہوں، اور میرے دل میں ان کی بہت قدر ہے۔ کیوں کہ وہ ہمیشہ اپنے کام کو بہترین طور پر انجام دینے کی کوشش کرتے ہیں "
مسٹر بین نے پونہ سے واپس جاتے ہوئے مولانا عبد الباری صاحب کو بلایا۔ جب وہ مسٹر بین کے دفتر میں پہنچے تو اس نے اپنی میز کی دراز کھولی اور اس میں سے کا غذوں کی ایک گڈی نکالی ۔ اس نے کہا کہ مسٹر مولوی ! یہ سب آپ کے خلاف شکایتوں کی چٹھیاں ہیں۔ مسٹر ہوم جی (آئندہ ہونے والے پرنسپل) مسلسل آپ کے خلاف شکایتیں لکھ لکھ کر بھیجتے رہے ہیں۔ صرف میں ان کے اور آپ کے درمیان روک بنا ہوا تھا۔ مگر اب میرے بعد آپ یہاں نہیں رہ سکتے۔ چنانچہ مسٹر بین کے جاتے ہی مولانا عبد الباری صاحب کو دکن کالج سے ہٹا دیا گیا۔
مسٹر بین جیسے عالی ظرف افراد ہی کوئی بڑاادارہ قائم کرتے ہیں۔ جن افراد کے اندر یہ عالی ظرفی نہ ہو وہ صرف سطحی لوگوں کی سرائے بنائیں گے نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی بڑا انسانی ادارہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 1994 All issues