smoking is prohibited on domestic flights
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۴۳
مثال کے طور پر اس زمانہ میں مسلم نوابوں کے یہاں ایک مستقل عہدہ " داستان گو" کا ہوا کرتا تھا جو فرضی قسم کی افسانوی کہانیاں سنا کر نواب اور ان کے درباریوں کو محظوظ کرتا تھا، حکیم سید اصغر علی لکھنوی (م ۱۸۷۹ء) اسی قسم کے ایک داستاں گو تھے۔ وہ واجد علی شاہ کے دربار سے وابستہ ہونے کی بنا پر اپنے نام کے ساتھ "داستان گوئے سلطانی" لکھا کرتے تھے۔ وہ دیووں اور پریوں کی خیالی کہانیاں بیان کرنے کے ماہر تھے۔
ندہو جاتے ہوئے میں لکھنؤ یونیورسٹی سے گزراجوپہلے کیننگ کالج تھا۔ سر چارلس جان کیننگ ۱۸۵۶میں گورنرجنرل کی حیثیت سے انڈیا آیا۔ اس نے یہاں کئی تعلیمی ادارے قائم کیے ۔ اس میں سے ایک کیننگ کالج بھی تھا۔ میں نے سوچا کہ جس زمانہ میں دوسری قومیں علوم حقیقی میں مہارت پیدا کر رہی تھیں، مسلم امرا و د استاں سرائی کرنے والوں سے اپنی بزم سجا رہے تھے۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کا جو انجام ہوا اس کو انہیں اپنی غفلت کے خانہ میں درج کرنا چاہیے نہ کہ وہ اس کو دوسروں کی سازش کا نتیجہ بتا کر ان کے خلاف احتجاج کرنے لگیں۔ لکھنؤ کی تہذیب فنون لطیفہ اور شعر و شاعری کی تہذیب تھی۔ اس کو شاہ جان عالم اور نواب واجد علی جیسے لوگوں نے بنایا تھا۔ صنعتی انقلاب نے اس تہذیب کی بالا دستی ختم کر دی۔ تاہم مزاج کے اعتبار سے وہ اب بھی پائی جاتی ہے۔ یہاں کے ایک شاعر ظریف لکھنؤ (۱۹۳۷۔ ۱۸۷۰ء) کا ایک شعر اپنے محبوب کے بارہ میں ہے :
کوئی ہے اطلاع اس وقت کردے جاکے تھانہ میں وہ میرے قتل پر کھینچے ہوئے تلوار بیٹھے ہیں نہ کہیں محبوب ہے اور نہ کہیں محبوب کی تلوار۔ شاعر اپنے تخیل کی دنیا میں خیالی مضمون بندی کر رہا ہے۔ اس مضمون بندی کا نام شاعرانہ اسلوب ہے۔ یہ اسلوب اردو زبان میں اتنا چھایا ہوا ہے کہ ہمارے مسلم مفکرین بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ تقریباً تمام مصلحین و مفکرین اسلام کو موضوع بنا کر اسی قسم کی مضمون بندی کر رہے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں جس چیز کو اسلامی ادب کہا جاتا ہے کہ وہ اسی مضمون بندی کا دوسرا نام ہے۔
لکھنؤ کی یادوں میں سے ایک یادم نسیم صاحب بھی ہیں۔ یہاں ان کی سگریٹ ایجنسی تھی۔ پھر بعض اسباب سے ایجنسی ختم ہوگئی۔ اس کے بعد وہ امریکہ چلے گئے ۔ انھوں نے لکھنؤ سے
‹ Previous page Next page › Contents of December 1994 All issues