smoking is prohibited on domestic flights
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۴۵
میں لکھنؤ میں تین سال رہا ہوں ۔ اس کے علاوہ بار بار وہاں جانا ہوا ہے۔ اس لیے یہاں لکھنؤ کے جس حصہ سے بھی گزرا کچھ یادیں ذہن میں تازہ ہوگئیں ۔ حضرت گنج کی طرف جانے والی سڑک پر ایک بہت بڑا مکان ہے۔ اس میں سید صدیق حسن، آئی سی ایس (وفات ستمبر ۱۹۶۳) رہا کرتے تھے ۔ وہ ایک لائق افسر ہونے کے ساتھ نہایت شریف انسان تھے۔ ہندو اور مسلمان سب ان کی عزت کرتے تھے۔ ان کا ایک سبق آموز قصہ یہ ہے :
۱۹۳۴ کا واقعہ ہے۔ فتح گڑھ (اتر پردیش) کے علاقہ میں سکھوا نام کے ایک ڈاکو نے سنسنی پھیلارکھی تھی۔ پولیس کو خوف زدہ کرنے کے لیے پولیس کے افراد کو خاص طور پر وہ اپنی گولی کا نشانہ بناتا تھا۔ مگر اسی زمانہ میں ایک اعلیٰ انتظامی افسر اس کی دہشت گردی کی فہرست سے مستثنیٰ تھا۔ یہ سید صدیق حسن صاحب تھے۔ سکھوا ڈاکو نے گرفتاری کے بعد خود بتایا کہ وہ اکثر رات کے وقت صدیق حسن صاحب کے بنگلہ پر آتا تھا۔ مگر محض ان کی شرافت کا لحاظ کرتے ہوئے اس نے ان پر گولی نہیں چلائی۔
صدیق حسن صاحب اس زمانہ میں فتح گڑھ میں جوائنٹ مجسٹریٹ تھے۔ سکھوا ڈاکو کی گرفتاری خود انہیں کی ایک مہم کے تحت عمل میں آئی۔ اور انہیں نے اس کے مقدمہ کی سماعت کر کے اس کو سزاے قید کا حکم سنایا۔
اس کے باوجود صدیق حسن صاحب کی وہ کیا خصوصیت تھی جس کی بنا پر سکھوا ڈاکو ان کی اتنی عزت کرتا تھا۔ اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے کہ جب وہ اس کو گرفتار کر کے اپنے بنگلہ پر لائے تو یہ سردی کا زمانہ تھا۔ سکھوا نے رات کے وقت ان سے کہا : جنٹ صاحب، آپ کا سکھوا سردی کھار ہا ہے۔ یہ سن کر صدیق حسن صاحب فورا گھر کے اندر گئے ۔ اپنی ایک نئی قمیص اور ایک موٹا کمبل لائے اور اس کو سکھوا ڈاکو کے حوالے کر دیا۔ (جمعیتہ وکیل ، مئی ۱۹۶۸) ۱۵ ستمبر ۱۹۶۲ کو میں ندوہ کے مجلس تحقیقات و نشریات اسلام کی دعوت پر لکھنؤ پہنچا۔ یہاں ندوہ کی قدیم عمارت کے اوپر کے ایک کمرہ میں میرا قیام تھا۔ تقریباً تین سال تک یہاں میرا قیام رہا۔ اس زمانہ قیام کی بعض یاد داشتیں یہاں قلم بند کی جاتی ہیں : اسی زمانہ میں مولانا محمد تقی امینی (۱۹۹۱-۱۹۲۴) بھی یہاں مقیم تھے۔ ان کا کمرہ میرے کمرہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 1994 All issues