smoking is prohibited on domestic flights
الرسالہ، دسمبر ۱۹۹۴، صفحہ ۴۶
سے قریب تھا۔ ان کے کمرے میں دو دروازے تھے۔ ایک روز انھوں نے پچھلے دروازہ کو اندر سے بولٹ کیا اور دوسرے دروازہ کو بند کر کے اس کا پیڈ لاک دبا دیا۔ بعد کو انھیں خیال آیا کہ تالے کی کنجی تو کمرے کے اندر رہ گئی۔ میرے لڑکے ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں آئے۔ انھوں نے ایک لمحہ تالے والے دروازے کو دیکھا اور اس کے بعد جاکر دوسرے دروازے کو زور زور سے ہلانے لگے۔ بظاہر مجھے یہ بات عجیب معلوم ہوئی۔ میں نے کہا کہ دروازہ تو سامنے کا بند ہوا ہے اور تم پچھلے دروازہ کے ساتھ زور آزمائی کر رہے ہو۔ وہ جواب دیے بغیر اس کو ہلاتے رہے۔ یہاں تک دروازہ کھل گیا۔
دروازہ کھلنے کا سبب یہ تھا کہ اس کے اندر کا بولٹ ہل کر سیدھا ہوا اور پھر وہ کھسک کر نیچے آگیا۔ اس طرح دروازہ کھل گیا۔ میں نے ظفر الاسلام خاں کو شاباشی دیتے ہوئے کہا کہ تم نے اپنے عمل سے زندگی کا ایک سبق دیا ہے۔ اس طرح تم نے مظاہرہ کی سطح پر بتایا ہے کہ دروازہ کہیں اور بند ہوتا ہے اور اس کو کھولنے کاراز کہیں اور موجود رہتا ہے۔ ابتدائی طور پر ندوہ کو ۱۸۹۲ء میں مولانامحمد علی مونگیری نے قائم کیا تھا۔ تاہم جس شخص نے ۔ ندوہ کو ندوہ بنایا وہ مولانا شبلی نعمانی تھے۔ اگر چہ ان کی زندگی ہی میں ندوہ میں ان کی اتنی مخالفت کی گئی کہ ان کو ندوہ چھوڑ دینا پڑا۔ شبلی کے اس فارسی شعر میں اسی صورت حال کی طرف اشارہ ہے :
از ہماں بزم کہ جز من دگرے راہ نداشت بایدم رفت کہ بہر دگراں جا باشد کہا جاتا ہے کہ ندوہ کا مقصد یہ تھا کہ نئے حالات اور نئے زمانہ کے مطابق ،مسلم رہنما پیدا کیا جائے ۔ مگر جہاں تک میرا اندازہ ہے، اس پوری مدت میں ندوہ کوئی بھی ایسا رہنما پیدا نہ کر سکا۔ جدید دور کے رہبر پیدا کرنا تو بہت بڑی بات ہے، جدید تقاضوں کے مطابق ، کوئی ایک کتاب بھی اہل ندوہ تیار کر کے دنیا کو نہ دے۔ ان کی تمام مطبوعہ کتابیں تقلیدی نوعیت کی کتابیں ہیں نہ کہ جدید نوعیت کی۔ مولانا عبد اللہ عباس ندوی نے ندوہ کے تعارف میں ایک مفصل مضمون قومی آواز ۱۹ جنوری ۱۹۹۲ میں شائع کیا تھا، اس کا ایک حصہ یہ تھا : ”مسلمانوں کا کوئی کام ایسا نہیں دیکھا گیا جس کی مخالفت خود مسلمانوں نے نہ کی ہو۔ ندوہ ابھی
‹ Previous page Next page › Contents of December 1994 All issues