Al-Risala · February 1994 · page 17

اچھا کردار

الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۱۷

سماجی زندگی کا رخ متعین کرنے کے لیے سب سے زیادہ اہم چیز روایت ہے۔ سماجی زندگی ہمیشہ روایات پر چلتی ہے۔ اچھی روایت قائم کی جائے تو اچھا سماجی ماحول بنے گا۔ اور بری روایت قائم کی جائے تو برا سماجی ماحول پرورش پائے گا۔

اس طرح آدمی کا ہر عمل کسی نہ کسی طور پر خود اس کی اپنی طرف واپس آتا ہے۔ آدمی کے اچھے کردار سے سماج میں اچھی روایتیں قائم ہوں گی جس کا نتیجہ خود اس کو بھی مختلف صورتوں میں ملے گا۔ اسی طرح آدمی کے برے کردار سے سماج میں بری روایتیں قائم ہوں گی۔ اس کے نتیجہ میں دوبارہ ایسا ہو گا کہ اس کے اثرات مختلف صورتوں میں خود اس کی اپنی ذات تک بھی پہنچیں گے۔ اچھے کردار کا پہلا فائدہ یہ ہے کہ آدمی کی اپنی روح کو سکون حاصل ہوتا ہے اور اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ وہ سماج ایک اچھا سماج بن جاتا ہے جس میں اسے رہنا ہے۔ اسی طرح برے کردار کا پہلا نقصان یہ ہے کہ آدمی روحانی سکون سے محروم ہو جاتا ہے اور اس کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ اس کو رہنے کے لیے ایک ایسا سماج ملتا ہے جو جھاڑ جھنکاڑ کا سماج ہو۔ پہلی صورت میں اس کا سماج پھولوں کا سماج بن جاتا ہے اور دوسری صورت میں اس کا سماج کانٹوں کا سماج۔ ایک آدمی نے مجھ سے سوال کیا کہ مختصر طور پر بتائیے کہ دنیا میں آدمی کو کس طرح رہنا چاہیے میں نے کہا کہ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ آپ بھی اسی طرح رہنے لگیں جس طرح آپ کے گرد و پیش کی ساری دنیا رہ رہی ہے۔ کائناتی اخلاق ہی بہترین انسانی اخلاق بھی ہے۔ کائنات گویا ایک اخلاقی نمونہ ہے اور ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ اس نمونہ کو ہم اپنی زندگی میں اپنا لیں۔

آپ سورج کو دیکھئے۔ وہ زمین پر بسنے والے تمام لوگوں کو روشنی پہنچا رہا ہے۔ اس کے پاس ایک قوم کے لیے بھی روشنی ہے اور دوسری قوم کے لیے بھی روشنی۔ حتی کہ اگر کوئی آدمی سورج کو گالی دے تب بھی اس کو سورج کی طرف سے روشنی اور حرارت ہی کا تحفہ ملے گا۔ یہی آفتابی اخلاق ہمیں بھی اپنی زندگی میں اپنانا ہے۔ ہمیں ہر ایک کے لیے نفع بخش بننا ہے۔ ہمیں ہر ایک کے لیے دینے والا بننا ہے، خواہ اس کی طرف سے ہمیں کچھ مل رہا ہو یا نہ مل رہا ہو۔ اس معاملہ میں ہمارا اخلاقی معیار اتنا اونچا ہونا چاہیے کہ ہم دشمن کو بھی دوست کی نظر سے دیکھیں اور غیر کے ساتھ بھی اپنوں جیسا سلوک کریں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues

Printed page