اچھا کردار
الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۱۸
آپ درخت کو دیکھئے ۔ درخت کیا کرتا ہے ۔ آپ کی سانس سے نکلی ہوئی کاربن ڈائی آکسائڈ کو وہ لے لیتا ہے ۔ اس کے بدلے وہ آکسیجن نکالتا ہے جو آپ کی تندرستی اور توانائی کے لیے انتہائی ضروری ہے ۔ گویا کہ درخت ایک ایسا کار خانہ ہے جس کے اندر مضر چیز داخل ہو کر بھی صحت بخش چیز بن جاتی ہے ۔
اب آدمی کو بھی چاہیے کہ وہ اسی اخلاق کو اپنائے ۔ اس کے کان میں کڑوا بول داخل ہو تو اندر پہنچ کر اس میں ایسی تبدیلی ہو جائے کہ وہ منہ سے میٹھے بول کی صورت میں نکلے ۔ کوئی اس کو گالی دے تو اس کے بدلے وہ اس کے لیے نیک دعائیں کرے ۔ کوئی اس کو نقصان پہنچائے تو وہ اس کو نفع پہنچانے کی کوشش کرے ۔ کوئی اس کو ذلیل کرے تو وہ اس کو عزت دینے کی فکر کرنے لگے ۔
کائنات میں یہی معاملہ ہر چیز کا ہے ۔ یہاں تک کہ زہریلے جانوروں کا بھی ۔ گجرات میں ایک ڈاکٹر ہیں۔ وہ کئی قسم کے سانپ پالے ہوئے ہیں۔ وہ ان سانپوں سے کھیلتے رہتے ہیں۔ ایک آدمی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب، آپ کو ان زہریلے سانپوں سے ڈر نہیں لگتا۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ بالکل نہیں۔ کیوں کہ یہ جانور تو قابل پیشین گوئی کردار کے حامل ہیں۔ وہ صرف اس وقت آپ کو کاٹتے ہیں جب کہ آپ انھیں ستائیں۔ اگر آپ جانوروں کو دکھ نہ دیں تو وہ کبھی آپ کو دکھ دینے والے نہیں۔
اسی طرح آدمی کو بھی قابل پیشین گوئی کردار والا ہونا چاہیے ۔ لوگوں کو پیشگی طور پر معلوم ہو کہ آپ کسی کو دھوکا دینے والے نہیں ہیں۔ آپ امانت میں خیانت کرنے والے نہیں ہیں۔ آپ کبھی اپنے اختیارات کا غلط استعمال نہیں کریں گے۔ آپ کسی کی کمزوری کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھائیں گے۔ آپ اپنے بارے میں ہمیشہ اس امید کو پورا کریں گے کہ آپ جب انسان ہیں تو آپ ہمیشہ انسانی کردار پر قائم رہیں گے ۔ کسی بھی حال میں آپ انسانی روش سے ہٹنے والے نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues