گلبرگہ کا سفر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۲۸
مذکورہ ترقیاتی واقعہ سے دنیا کو باخبر کرنے کی کوشش کی ہو۔ اس قسم کی خبر رسانی ناقص خبر رسانی ہے۔ اور جو لوگ ناقص خبر رسانی کی کمزوری میں مبتلا ہوں ان کا انتخاب کبھی داعی حق کے مقدس منصب کے لیے نہیں کیا جاسکتا۔
آگے بڑھے تو ایک مقام پر سڑک کے دونوں طرف سامان سے لدے ہوئے دو ٹرک اوندھے گرے ہوئے تھے۔ معلوم ہوا کہ دونوں ٹرک آمنے سامنے سے آرہے تھے۔ مگر دونوں میں سے کوئی دوسرے کو راستہ دینے کے لیے تیار نہ ہوا۔ دونوں صرف ہارن بجا بجا کر دوسرے سے کہتے رہے کہ تم اپنے ٹرک کو کنارے لے جاؤ۔ کیوں کہ میں اپنے ٹرک کو ہٹانے والا نہیں۔ دو طرفہ ضد میں دونوں ٹکرا گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں ہی برباد ہو گئے۔ گرے ہوئے ٹرک کو میں نے غور سے دیکھا تو ایک ٹرک پیچھے ایک تختی لگی ہوئی نظر آئی۔ اس پر جلی حرفوں میں یہ فقرہ لکھا ہوا تھا میرا بھارت مہان۔
میں نے سوچا کہ ان کی اس تباہی کا سبب ان کا ایک تضاد تھا۔ انھوں نے دھات کی تختی پر لکھ رکھا تھا کہ میرا دیش مہان ہے۔ مگر ان کے دل میں یہ لکھا ہوا تھا کہ میری گاڑی مہان ہے۔ دیش کو مہان بنانا اپنی ذات کی نفی کی قیمت پر ہوتا ہے۔ اگر وہ واقعہ دیش کو مہان بنائے ہوئے ہوتے تو وہ اپنی ذات کی نفی بھی کر چکے ہوتے۔ ایسی صورت میں مذکورہ حادثہ کا امکان اپنے آپ ختم ہو جاتا۔ ہماری کار محمد معین صاحب (۲۵ سال) چلا رہے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کتنے دن سے گاڑی چلاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ۱۹۸۵ء سے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے ساتھ کبھی ایکسیڈنٹ ہوا۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ اگر آپ سڑک پر صحیح رخ سے جارہے ہوں اور سامنے سے آنے والا غلط رخ سے آپ کی طرف آنے لگے تو ایسی حالت میں کیا کرنا چاہیے ۔ انھوں نے جواب دیا : اپنی گاڑی کو سلو کر دینا اور ضرورت ہو تو اپنے کو روک لینا۔ یہی اس دنیا میں زندگی کا راز ہے۔ سڑک کے ڈرائیوروں میں تو بہت سے ایسے انسداد ملیں گے جو اس راز کو جانتے ہوں۔ مگر زندگی کے مسافروں میں کوئی نہیں جو اس قیمتی راز کو جانے اور تعلقات انسانی میں اس کو استعمال کرے۔
ہم ظہیر آباد سے آگے بڑھے تو ہمارے ساتھی نے کہا: یہاں آندھرا پر دیش ختم ہوتا ہے اور
‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues