گلبرگہ کا سفر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۲۹
کرناٹک شروع ہوتا ہے " اس پہلے سڑک کے کنارے کے تمام بورڈ تلگو میں ہوا کرتے تھے، اب تمام بورڈ کنڑی میں دکھائی دینے لگے۔ میں نے کہا کہ ہندوستان کے تقریباً ۵۰ فی صد مسائل زبانوں کے اختلافات کی بنا پر ہیں۔ اگر یہاں سارے ملٹک کی زبان ایک ہوتی، جس طرح چین اور جاپان میں ہے، تو ہندوستان کے جھگڑے اتنی شدت کے ساتھ پیداہی نہ ہوتے اور اگر پیدا ہوتے تو جلدی ختم ہو جاتے۔
سڑک کے دونوں طرف جگہ جگہ آم کے درخت نظر آئے۔ ان پر ہری ہری پتیوں کے درمیان آم کے پھل لک رہے تھے۔ میں نے سو چا کہ درخت پورے سے ایک سال تک " محنت " کرتا ہے۔ اس کے بعد یہ ممکن ہوتا ہے کہ اس کی شاخوں پر با معنی پھل کا ظہور ہو۔ یہاں محنت کے بغیر کوئی مفید نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا، نہ درخت کی دنیا میں اور نہ انسان کی دنیا میں۔
گلبرگہ میں میرا قیام در دحامن ہوٹل کے کمرہ ۱۰۶ میں تھا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ دیر تک کمرہ میں لائٹ نہیں تھی۔ پنکھا اور بلب دونوں بند تھے۔ میں نے کمرے کے اندر کے تمام سوچ دباۓ مگر لائٹ نہیں آئی۔ میں نے سمجھا کہ یہاں کا بجلی کا نظام خراب ہے۔ ایک صاحب حکومت کے خلاف سخت شکایت کرنے لگے۔ کچھ دیر کے بعد ایک مقامی نوجوان آئے۔ اندر کا حال دیکھ کر وہ باہر نکلے۔ اور اس کے منّا بعد کمرے میں لائٹ آگئی۔ پنکھا بھی چلنے لگا اور بلب بھی روشن ہو گیا۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ کمرہ کے باہر دروازہ کے پاس اس کا مین سو پچ لگا ہوا تھا۔ یہ مسافر کی آسانی کے لیے تھا کہ جب وہ کمرہ سے نکلے تو ایک ہی سو پچ کے دبانے سے پورے کمرہ کی بجلی بند کر سکے۔ اس وقت کمرہ میں کئی نوجوان تھے ۔ میں نے کہا کہ دیکھئے ، اس میں بھی نصیحت ہے ۔ اس میں یہ سبق ہے کہ اگر آپ نے اصل " سوچ " نہ دبائی ہو تو نہ آپ کا پنکھا چلے گا اور نہ آپ کا کمرہ روشن ہو گا۔ اس لیے بجلی نہ ہونے کی شکایت نہ کیجیے ، بلکہ اصل سوچ تک اپنا ہاتھ پہنچانے کی کوشش کیجیے۔
مثلاً اگر آپ تعلیم میں پیچھے ہوں، آپ اقتصادیات میں پیچھے ہوں ، آپ کے اندر اتحاد نہ ہو، آپ کے اندر کر دار کی طاقت نہ ہو تو گویا کہ آپ کا مین سوچ بند ہے۔ ایسی حالت میں آپ کو وہ فائدہ کیوں کر مل سکتا ہے جو مین سوچ کھلا ہونے کی صورت میں کسی کو ملتا ہے۔ گلبرگہ ریاست کرناٹک کا ایک تاریخی شہر ہے۔ سلطان محمد بن تغلق کے زمانہ میں وہ دہلی سلطنت
‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues