گلبرگہ کا سفر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۳۱
واقعی حق سے زیادہ لینا چاہتا ہے۔ اگر ہر ایک اپنے واقعی حق پر راضی ہو جائے تو جھگڑا اپنے آپ ختم ہو جائے۔ گلبرگہ کے قیام کے زمانہ میں رہائش گاہ اور دوسرے مقامات پر لوگ برابر اکٹھا ہوتے رہے۔ اور غیر رسمی انداز میں مسلسل گفتگو جاری رہی۔ ایک مجلس میں کچھ نوجوان اکٹھا تھے۔ میں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی آپ کوئی بات کسی سے کہیں تو یہ سوچ کر کہیں کہ آپ کی بات سننے والے کے کان میں پہنچنے سے پہلے خدا تک پہنچ رہی ہے۔ یہ احساس اگر زندہ ہو جائے تو اس کے بعد غلط کلام یا بے فائدہ کلام کا اپنے آپ خاتمہ ہو جائے گا۔
۱۵ مئی کی شام کو گلبرگہ کے قلعہ کی مسجد دیکھی۔ یہ ایک بہت بڑا قدیم قلعہ ہے۔ اس کا رقبہ چھ سو مربع ایکڑ بنایا گیا۔ تاہم اب وہ خستہ حالت میں ہے۔ بظاہر محکمہ آثار قدیمہ کی طرف سے اس کی مرمت وغیرہ نہیں کرائی جاتی۔ اس کے اندر بہت سے لوگوں نے رہائش اختیار کرلی ہے۔
قلعہ کے اندر ایک تاریخی مسجد ہے۔ یہ ۱۳۶۵ء میں مکمل ہوئی۔ حسن گنگو بہمنی نے گلبرگہ کو فتح کرنے کے بعد قلعہ کے اندر یہ مسجد بنائی تھی۔ یہ مسجد جامع قرطبہ کے نقشہ پر بنائی گئی ہے۔ وہ آج بھی اچھی حالت میں ہے۔ پوری مسجد میں عمدہ چونے کا پلاسٹر ہے۔ اس مسجد میں معروف طریقہ کے مطابق صحن نہیں ہے۔ پوری مسجد مسقف ہے۔ میں نے اس کے اندر چل کر اسے ناپا تو مشرق و مغرب میں وہ ۱۰۲ قدم تھی اور شمال و جنوب میں ۸۰ قدم۔ پوری مسجد میں ۱۴۰ کھمبے ہیں اور ۲۶۰ کمانوں پر اس کو کھڑا کیا گیا ہے۔ وہ زمین سے اتنی بلندی پر ہے کہ اس کے نیچے بھی ایک منزل بن سکتی ہے۔
دو آدمی ملاقات کے لیے آئے۔ گفتگو کے دوران میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے کس چیز کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو تو ایسا لگتا ہے کہ ہماری زندگی کا کوئی مقصد نہیں۔ میں نے کہا کہ میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ آپ جنت کو اپنا مقصد بنائیں۔ آپ شعوری طور پر سوچ سمجھ کر یہ طے کریں کہ ہم کو مرنے کے بعد جنت حاصل کرنا ہے۔
ان میں سے ایک صاحب نے کہا کہ جنت کو پانے کے لیے ضروری عمل کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا تعین کوئی مشکل کام نہیں۔ آپ قرآن کو صرف اس نیت سے از اول تا آخر پڑھیں کہ اس سلسلہ میں قرآن کیا راستہ بتاتا ہے۔ اور پھر جو راستہ قرآن میں ملے اس کو کسی شک اور تردد کے بغیر اختیار کر لیجیے۔ آپ انشاء اللہ سیدھے جنت میں پہنچ جائیں گے۔ قرآن جنت کا بے خطا گائیڈ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues