گلبرگہ کا سفر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۳۳
کر وہ بڑی تعداد میں تقسیم کرتے ہیں۔ اس کے آخر میں الرسالہ کا یہ جملہ لکھا ہوا تھا : اختلاف کے باوجود متحد ہونا ہی اتحاد ہے۔ اسی طرح مختلف مسجد اور مدرسہ میں الرسالہ کے تعمیری جملے بورڈوں پر لکھے ہوئے نظر آئے ۔
ایک مجلس میں ایک صاحب نے کہہا کہ " ہم پہلے مسلمان ہیں اور اس کے بعد ہندوستانی۔ " میں نے پوچھا کہ کیا صحابہ کرام نے کبھی یہ کہا تھا کہ ہم پہلے مسلمان ہیں اور اس کے بعد عرب ۔ یا عرب کے باہر جن ملکوں میں وہ گئے وہاں انھوں نے یہ کہا کہ ہم پہلے مسلمان ہیں اور اس کے بعد مصری یا شامی یا ایرانی۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا : پھر ایسی بولی بولنا بدعت ہے اور ہر بدعت ضلالت ہے، اور ضلالت تباہی کے سوا کہیں اور پہنچانے والی نہیں ۔
میں نے کہا کہ اس قسم کی بولیاں جاہلیت کی بولیاں ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ آپ یوں کہیں کہ میں مذہب کے اعتبار سے مسلمان ہوں اور وطن کے اعتبار سے ہندوستانی ۔ کوئی آدمی یہ نہیں کہتا کہ میں پہلے اپنے باپ کا ہوں، اس کے بعد میں اپنی ماں کا ہوں۔ آدمی بیک وقت اپنے باپ کا بھی ہے اور اپنی ماں کا بھی۔ اسی طرح آپ بیک وقت مسلمان بھی ہیں اور ہندوستانی بھی ۔
شہر میں چلتے ہوئے ایک بار ہم ایک عمارت سے گزرے۔ اس پر "سٹی لائبریری " کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ ہمارے مقامی ساتھی نے کہا کہ اس لائبریری میں الرسالہ آتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اسی طرح گلبرگہ میں بہت سی لائبریریاں ہیں اور اکثر لائبریریوں میں دوسرے میگزین کے ساتھ الرسالہ بھی مطالعہ کی میز پر رکھا جاتا ہے ۔
تبلیغی حلقہ کے کئی اصحاب سے ملاقات ہوئی۔ معلوم ہوا کہ یہاں تقریباً ۳۰۰ مسجدیں ہیں اور اکثر مسجدوں میں کم و بیش تبلیغ کا کام ہو رہا ہے۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ یہاں ایسے بہت سے افراد ہیں کہ ان میں سے ایک شخص لہو و لعب کی زندگی میں پڑا ہوا تھا۔ اس کو سمجھایا جاتا تھا۔ مگر وہ اپنے خلاف کچھ سننے کے لیے تیار نہ ہوتا تھا۔ آخر کار اس کو کہ سن کر جماعت " میں لگا لیا۔ چند دن جماعت میں رہ کر جب وہ لوٹا تو وہ بدل چکا تھا۔
اس طرح کے واقعات تبلیغ کے کام میں کثرت سے پیش آئے ہیں۔ اس کا راز کیا ہے یہ کوئی پراسرار معاملہ نہیں۔ یہ معمولی غور و فکر سے اس کا راز سمجھا جا سکتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ جماعت میں جانے
‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues