Al-Risala · February 1994 · page 34

گلبرگہ کا سفر

الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۳۴

سے پہلے جو لوگ، انہیں سمجھاتے تھے، وہ ان کے ماحول میں رہ رکھتے ہوئے انھیں بدلنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اور یہ عام انسانی مزاج کے خلاف ہے۔ جماعت میں نکالنا دراصل آدمی کو اس کے ماحول سے نکالنا ہے۔ آدمی سے جب اس کا ماحول چھوٹ جاتا ہے تو اس کے بعد وہ اس پوزیشن میں ہو جاتا ہے کہ وہ خالی ذہن کے ساتھ سوچ سکے۔ اس وقت اس کی فطرت کے سوا کوئی اور چیز اس کے پاس موجود نہیں ہوتی۔ اور جب فطرت کے سامنے حق کو پیش کیا جائے تو اس کے بعد اس کی قبولیت میں دیر نہیں لگتی۔

ماحول سے نکال کر اصلاح کرنے کے طریقہ کی مثالیں پیغمبروں کے یہاں موجود ہیں۔ مثلاً مصر میں بنی اسرائیل مشرک قوم کے ماحول میں تھے۔ ان کے اندر کافی بگاڑ آ گیا تھا۔ اس وقت حضرت موسیٰ ان کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا میں لے گئے۔ یہ گویا ان کو ان کے ماحول سے باہر نکالنا تھا۔ چنانچہ جو تربیتی کام مصر میں نہیں ہو رہا تھا، وہ صحرا کے علاوہ ماحول میں آسانی کے ساتھ ہونے لگا۔

میں نے کہا کہ ماحول سے نکال کر اصلاح کا یہی طریقہ غیرمسلموں کے لیے بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔ اگر کچھ لوگ ایسا کریں تو وہ بہت سے غیرمسلموں کو اپنا ساتھی پائیں گے۔

ایک صاحب نے کہا کہ آپ ہمیشہ صبر و اعراض کی بات کرتے ہیں۔ آخر کس سے صبر و اعراض۔ کیا ان لوگوں سے صبر و اعراض جو کفار لا اعتبار ہیں۔ میں نے کہا کہ "کفار لا اعتبار" کا لفظ مسلمانوں میں بہت عام ہے۔ بہت سے لوگ اس کو قرآن و حدیث کی طرح دہراتے ہیں۔ حالانکہ قرآن وحدیث تو در کنار، وہ عربی بھی نہیں ہے۔ کیوں کہ اس جملہ میں اعتبار کا لفظ ٹرسٹ کے معنی میں ہے۔ اور عربی میں اعتبار کا لفظ ٹرسٹ کے معنی میں نہیں آتا بلکہ عبرت پکڑنے کے معنی میں آتا ہے۔ پھر میں نے کہا کہ اس ملک کے غیر مسلموں کو کافر کہنا سرے سے غلط اور غیر اسلامی ہے۔ کافر کے معنی منکر کے ہیں۔ اور کسی شخص کا منکر ہونا اس وقت متحقق ہوتا ہے جب کہ اس کے سامنے بات پوری طرح پیش کر دی جائے اور پھر بھی وہ اس کا انکار کرے۔ اس ملک کے غیر مسلموں کے سامنے ابھی مسلمانوں نے سرے سے دعوت پیش ہی نہیں کی۔ پھر پیشگی طور پر ان کو کافر (منکر) کیسے کہا جاسکتا ہے۔ میں نے کہا کہ سنت رسول کے مطابق صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس ملک کے غیر مسلموں کو ہم اپنا وطنی بھائی سمجھیں ۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues

Printed page