گلبرگہ کا سفر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۳۵
اور ان کو اپنا ہم قوم کہیں۔
مزید یہ کہ دعوت لاؤڈ اسپیکر کے اعلان کا نام نہیں ہے ۔ دعوت دراصل دردمندی اور خیر خواہی کے تحت کیا جانے والا ایک عمل ہے۔ اور جب آپ کسی قوم کو حریف اور رقیب سمجھ لیں تو اس کے حق میں خیر خواہی اور دردمندی کا جذبہ کبھی پیدا نہیں ہو سکتا۔
ایک مجلس میں میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان بے شمار تحریکیں اٹھیں مگر بیشتر تحریکیں کسی نہ کسی کور دکر نے کی بنیاد پر اٹھیں ۔ رد بدعت ، رد قادیانیت ، رد شرک ، رد شیعیت ، رد عیسائیت ، وغیرہ ۔ یہ تمام تحریکیں عملاً بالکل بے نتیجہ رہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل کام اثبات ہے نہ کہ تردید۔
۱۵ مئی کو جمعہ کے دن گلبرگہ کی جامع مسجد میں خطاب تھا۔ یہ خطاب نماز جمعہ کے بعد ہوا خطاب سے پہلے ایک صاحب نے پوچھا کہ آج مسجد میں آپ کے خطاب کا موضوع کیا ہے۔ میں نے کہا کہ نماز۔ انھوں نے کہا کہ اگر آپ اصلاح معاشرہ پر خطاب کرتے تو زیادہ اچھا تھا۔ میں نے انھیں کوئی جواب نہیں دیا۔ البتہ میں سوچتا رہاکہ نماز کے بارہ میں لوگوں کا تصور کتنا محدود ہے۔ وہ نماز کے موضوع کو الگ سمجھتے ہیں اور اصلاح معاشرہ کے موضوع کو الگ۔ حالانکہ نماز پوری اسلامی زندگی سے تعلق رکھتی ہے۔ نماز پوری زندگی کی اسلامی تربیت ہے۔ میں نے اپنی تقریر میں اسی اعتبار سے نماز کے عمل کی تشریح کی۔
۱۵ مئی کو نماز عشاء کے بعد دوبارہ جامع مسجد میں ایک تقریر ہوئی۔ اس تقریر میں میں نے کہا کہ ایک ہے بے روح عبادت اور ایک ہے زندہ عبادت ۔ بے روح عبادت ایک وقتی قسم کا رسمی عمل ہوتا ہے جس کا آدمی کی زندگی سے کوئی حقیقی تعلق نہیں ہوتا۔ اور زندہ عبادت وہ ہے جو آدمی کی پوری زندگی سے جڑی ہوئی ہو۔
۱۶ مئی کو نماز فجر کے بعد کچھ لوگ مسجد میں جمع ہو گئے۔ یہاں ایک گھنٹہ تک دینی باتیں ہوئیں۔ یہ گفتگو زیادہ تر سوال و جواب کی صورت میں ہوئی۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہم سے کہا جاتا ہے تقدیر کے معاملات میں زیادہ بحث نہ کرو ۔ بلکہ مجمل ایمان رکھو، ایسا کیوں ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا سبب خود تقدیر کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہماری اپنی محدودیت کا مسئلہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues