گلبرگہ کا سفر
الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۳۶
ہم اپنی محدودیت کی بنا پر بہت سی باتوں کا ادراک نہیں کر سکتے ۔ اس لیے حقیقت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ ایسی باتوں کو مجمل طور پر مان لیا جائے ۔ یہی سائنٹفک طریقہ ہے۔ مثال کے طور پر سائنس میں ایک مکمل کائنات پر یقین کیا جاتا ہے۔ حالانکہ بلیک ہول تھیوری بتاتی ہے کہ کائنات کے مادہ کا ۹۰ فی صد حصہ ہمارے لیے ناقابل مشاہدہ ہے۔ کیوں کہ اس کی روشنی ہم تک نہیں پہنچتی۔ اور ہم روشنی کے بغیر کسی چیز کو دیکھ نہیں سکتے۔
۷ مئی کی سہ پہر کو گلبرگہ کے دو مدرسوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ جامعہ عربیہ مظاہر العلوم اور مدرسہ عربیہ مصباح العلوم۔ دونوں مدرسے تعلیم دین کی خدمت میں مصروف ہیں۔ دونوں جگہ مختصر خطاب کیا گیا۔ خطاب میں طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ علم کے حصول کے لیے سب سے ضروری چیز محنت ہے۔
۱۶ مئی کی شام کو نماز عشاء کے بعد گلبرگہ کے نیشنل ہائی روز ہائی اسکول میں خطاب عام تھا۔ اس کا موضوع تھا: توحید سب سے بڑی حقیقت ۔ اس خطاب میں کافی تفصیل کے ساتھ موضوع پر روشنی ڈالی گئی۔ میں نے بتایا کہ توحید محض ایک کلمہ کا تلفظ نہیں ہے، وہ عظیم ترین حقیقت کو اپنے دل و دماغ میں اتارنا ہے۔ فردیا معاشرہ میں جب توحید کا فکر پکڑتا ہے تو وہ شروع سے آخر تک ہر چیز کو بدل ڈالتا ہے۔ اس وقت کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ توحید کا فکر لوگوں کے ذہنوں میں ڈالا جائے ۔
۱۷ مئی کی صبح کو گلبرگہ سے حیدر آباد کے لیے روانگی ہوئی۔ راستہ میں ظہیر آباد واقع ہے یہاں کچھ دیر قیام کر کے دار العلوم ظہیر آباد دیکھا جس کو مولانا مدثر صاحب اور ان کے ساتھی چلا رہے ہیں۔ دنیا پرست لوگ جن کو "ملا" کہہ کر انھیں قوم کا غیر اہم عنصر قرار دیے ہوئے ہیں، وہی اس وقت قوم کا سب سے اہم کام کر رہے ہیں۔ یہ ہے تعلیم دین کا نظام سنبھالنا " ملا" لوگ اگر اس کام میں نہ لگتے تو یہ کام شاید معطل ہو جاتا، کیوں کہ غیر ملا اصحاب کو اس قسم کے کام سے کوئی دل چسپی نہیں۔ ظہیر آباد میں خطاب عام کا ایک پرو گرام بھی تھا۔ اس کا انتظام یہاں کے کمیونٹی ہال میں کیا گیا تھا۔ اس خطاب کا عنوان تھا "______ اسلام میں آخرت کا تصور"
میں نے کہا کہ آخرت کا تصور کوئی رسمی قسم کا عقیدہ نہیں۔ یہ در اصل ایک سنگین ترین حقیقت کا
‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues