Al-Risala · February 1994 · page 34

گلبرگہ کا سفر

الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۳۴

اعتراف ہے جس سے ہم میں سے ہر شخص کو سابقہ پیش آنے والا ہے۔ اگر دلوں کے اندر صحیح معنوں میں اس کا احساس و اعتراف پیدا ہوا جائے تو پوری زندگی میں انقلاب آجائے۔ مختلف مثالوں کے ذریعہ اس کی اہمیت کو واضح کیا۔

ظہیر آباد کے مدرسہ میں تحفیظ القرآن کے کلاس میں بیٹھا ہوا تھا۔ بہت سے بچے رحل پر قرآن رکھ کر قرآن کو یاد کرنے میں مشغول تھے۔ ان سے پوچھا جاتا کہ فلاں سورہ میں کتنے رکوع اور کتنی آیتیں ہیں تو وہ فورا بلا توقف اس کا جواب دیتے تھے۔ فلاں سورہ مکی ہے یا مدنی، یا اس قسم کے دوسرے سوالات کسی آیت کا پہلا لفظ پڑھ دیجئے اور اس کے بعد بچہ اس کے آگے کی آیتیں فی الفور پڑھنے لگے گا۔ دنیا میں اس طرح کے لاکھوں مدرسے ہیں۔ اور ان میں تعلیم پانے والے بچے گویا زندہ کمپیوٹر ہیں جو قرآن کے لفظ لفظ کو محفوظ کرنے میں مشغول ہیں۔

اس منظر کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ انسانیت کی تاریخ میں کوئی ایسی کتاب میں لکھی گئی ہیں مگر کسی کتاب کا مصنف اس پر قادر نہ ہوسکا کہ وہ لوگوں کے اندر یہ جذبہ پیدا کر دے کہ وہ نسل در نسل اس کو یاد کرتے رہیں۔ یہ امتیاز صرف قرآن کو حاصل ہے۔ قرآن کی یہ استثنائی صفت اس کی استثنائی نوعیت کو ثابت کر رہی ہے۔

ظہیر آباد کے بیرونی مارکیٹ میں ہماری گاڑی تھوڑی دیر کے لیے رکی۔ مولانا اکبر الدین قاسمی کچھ خریداری کے لیے یہاں اترے۔ واپس آنے کے بعد انھوں نے بتایا کہ سڑک کے کنارے میں ایک ٹھیلہ والے پاس کھڑا تھا۔ وہاں ایک نو عمر مسلمان لڑکا آم بیچ رہا تھا۔ میں ابھی وہیں تھا کہ ایک اور مسلمان لڑکا اس کا جاننے والا وہاں آگیا۔

پہلے لڑکے نے دوسرے لڑکے سے پوچھا کہ کیا آج تم اسکول گئے تھے۔ اس نے کہا کہ نہیں۔ اس پر پہلے والے لڑکے نے کہا: نہیں پڑھے گا تو کسی چائے خانے میں پیالیاں دھونا ہوگا۔ اس کے بعد اس نے دوسرے لڑکے کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ مجھ کو دیکھ، میں وقت پر اسکول گیا۔ وہاں سے پڑھ کر آرہا ہوں اور اب آم بیچ رہا ہوں۔ سنو، یہاں، ہم کو پڑھنا ہے اور اچھی تعلیم حاصل کرنا ہے تاکہ ہم کو اچھی ملازمت ملے۔ اور اگر ملازمت نہ بھی ملی تو اگر ہم نے پڑھ لیا تو ہم کسی کے محتاج نہیں رہیں گے۔ پڑھا ہو آدمی ہر کام کر سکتا ہے۔ بے پڑھا آدمی کوئی کام نہیں کر سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues

Printed page