Al-Risala · February 1994 · page 35

گلبرگہ کا سفر

الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۳۵

غریب طبقہ کے دو مسلمان لڑکوں کی یہ گفتگو میرے لیے بڑی سبق آموز تھی۔ اس کو سن کر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں حال کے واقعہ میں مسلمانوں کے مستقبل کو دیکھ رہا ہوں۔ مجھے نظر آیا کہ اس ملک کے مسلمانوں نے اب نیا فیصلہ کیا ہے، اور اس فیصلہ کا اثر گلیوں میں رہنے والے بچوں تک پہنچا ہے۔ اب تک مسلمان اپنے سطحی لیڈروں کی باتوں میں آکر اپنے مستقبل کا معاملہ دوسروں پر ڈالے ہوئے تھے۔ وہ احتجاج اور مطالبہ کی بے فائدہ مہم میں مشغول تھے۔ اب وہ ان جھوٹے لیڈروں کے فریب سے نکل آئے ہیں۔ اب انھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنی تقدیر آپ بنائیں گے۔ اور جو قوم اس راز کو پالے اس کی ترقی کو کوئی روکنے والا نہیں۔

ظہیر آباد میں چند گھنٹے گزار کر دوپہر کے وقت یہاں سے حیدر آباد کے لیے روانگی ہوئی۔ راستہ میں ایک نوجوان عالم غیاث احمد رشادی سے بات ہوتی رہی۔ میں نے قرآن و حدیث کے بہت سے مضامین کو سوال و جواب کی صورت میں واضح کیا۔ ان کا تاثر یہ تھا کہ میں پہلی بار قرآن و حدیث کو اس کی گہرائی کے ساتھ سمجھ رہا ہوں ۔ میں نے کہا کہ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں ویسے کیم کہا گیا ہے۔ تزکیہ ذہن کے پردہ کو کھولنے کا نام ہے نہ کہ بند حجرہ میں بیٹھ کر الفاظ کی ورزش کرنے کا۔ ساڑھے تین بجے سہ پہر کو حیدر آباد پہنچا۔ یہاں نماز عصر کے بعد ایک اجتماع ہوا۔ محبوب بازار (چادر گھاٹ) میں الرسالہ مطبوعات کی فراہمی کے لیے ایک نیا اسٹال کھولا گیا ہے۔ یہاں سے الرسالہ اور دوسری مطبوعات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ اس سے رابطہ قائم کرنے کے لیے ٹیلی فون نمبر یہ ہے ۔ 527774 ، مئی 1992 کو راقم الحروف کی تقریر کے ساتھ اس کا افتتاح کیا گیا ۔ میں نے اپنی تقریر میں الرسالہ مشن کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ الرسالہ کا مشن یہ ہے کہ مسلمانوں کو دوبارہ اس قائدانہ رول کے لیے کھڑا کیا جائے جو کہ ماضی میں وہ مسلسل ادا کرتے رہے ہیں۔

برطانوی دور سے پہلے جب مسلمان اس ملک میں آئے تو جواہر لال نہرو کے الفاظ میں ، وہ بریلینٹ کلچر لے کر اس ملک میں آئے ۔ انھوں نے مختلف پہلوؤں سے اس ملک کو فائدہ پہنچایا جس کا فیاضانہ اعتراف ڈاکٹر تارا چند نے اپنی کتاب انفلوئنس آف اسلام آن انڈین کلچر میں کیا ہے۔ انگریزی دور میں دوبارہ مسلمانوں نے یہاں قائدانہ رول ادا کیا۔ اب ضرورت تھی کہ ملک میں آزادی کی تحریک اٹھے اور اس کے لیے قربانیاں دی جائیں ۔ یہ کام بھی مسلمان ہی کر سکتے تھے اور انھوں

‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues

Printed page