توشم آیا ہے (ان فی ذلک لايات للمتوسمين) الحجر ۷۵
الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۴۲
طاقت ور ہونے کے باوجود ہمیشہ ٹکراؤ کو اوائڈ کرنے کی پالیسی اختیار کرتا ہے۔ وہ صرف اس وقت اپنی طاقت استعمال کرتا ہے جب کہ عملاً اس کو زخمی کر دیا گیا ہو۔
اس فلم میں آپ دیکھیں گے کہ شیر چل رہا ہے۔ سامنے سے اس کو ہاتھی آتا ہوا دکھائی دیا تو اس نے اپنے راستہ کو بدل دیا۔ حتی کہ بھینسوں اور جنگلی کتوں سے بھی وہ کتر اکر چلتا ہے۔ ہرن اور چیتل شیر کے پسندیدہ شکار ہیں۔ ایک بھوکا شیر شکار کے لیے نکلتا ہے۔ سامنے ہرنوں اور چیتلوں کا غول کھڑا ہوا ہے۔ مگر وہ کبھی غول پر حملہ نہیں کرے گا۔ وہ صرف اس وقت حملہ کرتا ہے جب کسی جانور کو تنہا پالے۔ ایک بار میں نے دیکھا کہ ایک شیر نے پانی کے کنارے شکار کیا۔ اس کے بعد اس کا شکار ایک مگر مچھ پکڑ کر کرنے جانے لگا۔ اس وقت شیر نے مگر مچھ سے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ حالانکہ شیر اتنا طاقت ور ہوتا ہے کہ ایک بار میں نے دیکھا کہ اس نے سواسوجیلو کا ایک سانبھر اپنے منہ میں دبایا اور اسی طرح پکڑتے ہوئے دریا کو پار کر کے دوسری طرف چلا گیا۔
شیر کا طریقہ یہ ہے کہ طاقت ہو تو تب بھی نہ لڑو۔ اور کچھ لوگوں نے شیر کے نام پر یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ طاقت نہ ہو تب بھی لڑ جاؤ۔
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کی مین اسٹریم سے میں بھی الگ ہوں اور آپ بھی الگ ہیں ۔ ۔۔
میں نے کہا کہ آپ اپنے بارہ میں جو بھی چاہیں کہیں مگر میں تو مسلمانوں کی مین اسٹریم سے بال برابر بھی الگ نہیں ہوں۔ میں تو مین ان کی مین اسٹریم میں شامل ہوں۔ انھوں نے کہا کہ پھر آپ بعض طاہر پر تنقید کیوں کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ تنقید کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی مین اسٹریم سے الگ ہو گیا۔ مولا نا حسین احمد مدنی اور مولانا اشرف علی تھانوی سیاسی معاملہ میں ایک دوسرے کے ناقد تھے مگر دونوں مکمل طور پر مسلمانوں کی مین اسٹریم میں شامل تھے ۔
پھر میں نے کہا کہ مین اسٹریم کا مطلب ، اہل سنت والجماعت کے مسلک میں شامل ہونا ہے۔ میں کسی بھی اختلاف کے بغیر اہل سنت والجماعت کے مسلک پر قائم ہوں۔ اس سے ذرہ برابر بھی میں الگ نہیں۔ البتہ کسی مقصد کے حصول کے لیے کیا طریق کار اختیار کیا جائے، اس میں بعض اوقات میں دوسروں سے اختلاف کرتا ہوں۔ اس قسم کا اختلاف عین جائز ہے۔ وہ ہمیشہ صحابہ، تابعین، محدثین،
‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues