توشم آیا ہے (ان فی ذلک لايات للمتوسمين) الحجر ۷۵
الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۴۴
دوسرے بچے نے اپنے چک دار کھلونوں کو خبر اپنے دوست کو دینے کے لیے اس کا نمبر ملایا اور پر انداز میں ٹیلی فون پر کہا کہ میری ممی دبئی گئی تھی، اور وہاں سے وہ میرے لیے بہت سے کار اور ایک جہاز اور ایک جیپ خرید کر لائی ہے :
My mummy went to Dubai and she bought me so many cars, and a plane, and a jeep. موجودہ زمانہ میں یہی حال تمام گھروں کا ہے۔ ماں باپ اپنے بچوں کی خوشی کے لیے ان کے گھر لذت اور تفریح کے تمام سامان جمع کر دیتے ہیں۔ چنانچہ بچے ہر وقت دنیوی تماشوں میں گم رہتے ہیں۔ گھر میں چاکلیٹ اور کھلونوں کا ماحول ہے۔ ہر گھر دنیا کی یاد دلانے کا کار خانہ بنا ہوا ہے۔ ایسی حالت میں بچوں کے اندر آخرت پسندی کا مزاج پیدا ہونے کا کوئی امکان نہیں۔
۱۸ مئی ۱۹۹۲ کو صبح ۱۰ بجے ہمارا جہاز دہلی ایئر پورٹ پر اتر گیا۔ اعلانات کے مطابق ، اس کے ہوا باز کیپٹن مصطفے تھے ۔ میرا خیال تھا کہ دہلی پہنچ کر ان سے ملاقات کروں گا۔ مگر جہاز جب اپنی منزلا پر پہنچتا ہے تو اترنے والوں کی عجلت کی وجہ سے جہاز میں ایک ہنگامی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس ہنگامہ میں ملاقات کی بات میرے ذہن سے نکل گئی اور میں ان سے ملاقات نہ کر سکا۔ مسلمانوں کے ہر پر چہ میں مسلمانوں کی محرومیوں اور حق تلفیوں کا ذکر ہوتا ہے۔ مگر میں اس قسم کے باتوں کو ناقابل ذکر سمجھتا ہوں۔ کیونکہ کوئی سماج اس قسم کے واقعات سے خالی نہیں ہو سکتا۔ جن چیزوں کی محرومی یا حق تلفی کہا جاتا ہے وہ قدرت کا ایک سادہ قانون ہے جو ہمیشہ اور ہر انسانی آبادی میں جاری رہتا ہے۔
زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہر محرومی میں ہمیشہ یافت کے پہلو موجود رہتے ہیں۔ چنانچہ انڈین ایئر لائن کی اعلیٰ سروسوں میں مسلمان داخل ہو رہے ہیں۔ نئی اقتصادی پالیسی کے بعد کچھ مسلمانوں نے انٹر نیشنل ائیر کمپنی بھی بنائی ہے۔ موجودہ دنیا میں زندگی کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ مسائل کو نظر انداز کیا جائے اور مواق کو بھر پور طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی جائے۔
۱۸ مئی کو سفر سے واپس ہو کر دہلی پہنچا تو لاہور کے دو اخبار وفاق اور نوائے وقت ۱۷ مئی ۲ بذریعہ ڈاک ملے۔ دونوں کے صفحہ اول پر بھارت میں ہونے والے "مسلم کش فساد کی خبر تھی ، وفاق
‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues