توشم آیا ہے (ان فی ذلک لايات للمتوسمين) الحجر ۷۵
الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۴۵
”تعمیری صحافت کا پاسدار“ ہے، اس کے صفحہ اول کی سب سے زیادہ جلی سرخی یہ تھی ــــــــــ ”نئی دہلی میں مسلمانوں کا قتل عام، دارالحکومت فوج کے حوالے کر دیا گیا“۔
مانیٹرنگ ڈیسک کے حوالے سے خبر میں بتایا گیا تھا کہ بھارتی حکومت مسلمانوں کے جان و مال کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو گئی۔ ہندو بلوائی پولیس کی شہ پر من مانی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ مسلح انتہا پسند ہندوؤں نے اچانک مسلم علاقوں کا محاصرہ کر کے حملوں کا آغاز کر دیا۔ مسلمانوں کی املاک کو نذر آتش کر دیا گیا۔ مسلم آبادیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ بھارت ایک مرتبہ پھر بدترین مسلم کش فسادات کی لپیٹ میں آگیا ہے۔ خدشہ ہے کہ مسلم کش فسادات کی یہ مہم پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ نوائے وقت میں بھی اسی قسم کی خبر صفحہ اول پر شائع کی گئی ہے۔
اس سنسنی خیز رپورٹ میں جس مسلم کش فساد کا ذکر کیا گیا ہے، اس کا ”نئی دہلی“ سے کوئی تعلق نہیں جہاں میں پچھلے دس سال سے رہ رہا ہوں۔ اس فساد کا تعلق نئی دہلی سے نہیں بلکہ جمنا پار کی ایک بستی سے ہے جس کو سیلم پور کہا جاتا ہے، اور ایک شخص کے بقول، جس کا زیادہ صحیح نام سَلِم پور ہونا چاہیے۔ نیز یہ کہ مذکورہ رپورٹ میں اس واقعہ کو جس انداز سے پیش کیا گیا ہے، اس کا اصل واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔ نئی دہلی کے اخبار قومی آواز کے نمائندہ مسٹر نصرت ظہیر نے فساد زدہ علاقہ کا دورہ کرنے کے بعد قومی آواز کے شمارہ ، اسی ۱۹۹۲ میں مفصل رپورٹ چھاپی ہے جو میرے پاس موجود ہے۔ تفصیل کے طالب اس کو دیکھ سکتے ہیں۔
اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فساد ایک مسلمان کی نادانی کی بنا پر پیش آیا۔ اس فساد کا اصل سبق یہ ہے کہ مسلمانوں کو ہوش مندی کے ساتھ جینا سکھایا جائے نہ کہ خلاف واقعہ طور پر مذکورہ قسم کی خبریں چھاپ کر ان کے اندر فرضی خوف پیدا کیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues