یہو یا پرستار
الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۴۶
یہو یا پرستار
لکھنؤ کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ بات چیت کے دوران میں نے اقبال پر تنقید کی۔ میں نے کہا کہ اقبال کا شعر ہے : لڑادے مولے کو شہباز سے۔ یعنی تم کمزور ہو تب بھی طاقت ور سے لڑ جاؤ۔ میں نے کہا کہ یہ محض شاعرانہ خیال آرائی ہے۔ اس کا تعلق نہ عقل سے ہے اور نہ اسلام سے۔
مذکورہ مسلمان غصہ ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ آپ اقبال پر تنقید کرتے ہیں۔ اقبال تو پیر تھے، اقبال تو وہ تھے ۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ اقبال کے پرستار ہیں مگر آپ لوگ اقبال کے پیرو نہیں۔ اگر واقعہ آپ اقبال کے پیرو ہیں تو ۶۔ ۷ دسمبر ۱۹۹۲ء کو جب آپ کے پڑوس میں بابری مسجد کو توڑ کر اس کی جگہ مندر بنایا گیا تو اقبال کے مداحوں کو لے کر آپ کیوں نہیں اجودھیا میں گھس پڑے۔ آپ لوگ اگرچہ "ممولا" تھے اور کارسیوک آپ کے مقابلہ میں "شہباز" تھے۔ مگر آپ کے اقبال تو یہی کہتے ہیں کہ تم خواہ ممولا ہو، تب بھی تم شہباز سے لڑ جاؤ۔ آپ لوگ اجودھیا میں داخل ہو کر کارسیوکوں سے ٹکرا جاتے۔ اگر وہ لوگ آپ کو مار ڈالتے تب بھی آپ کامیاب تھے ۔ کیوں کہ آپ کے محبوب اقبال نے کہا ہے :
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی یہ واقعہ بتاتا ہے کہ جو لوگ "اکابر" کی تنقید پر غصہ ہوتے ہیں، ان کے غصہ کی حقیقت کیا ہے۔ یہ لوگ سب کے سب اپنے اکابر کے پرستار ہیں، وہ اپنے اکابر کے پیرو نہیں۔ ان میں سے کوئی نہیں جو واقعہ اکابر کے کہے پر چل رہا ہو۔ البتہ اگر کوئی شخص ان کے مفروضہ اکابر پر کوئی نقد کر دے تو وہ بھڑک اٹھیں گے۔ ان کا یہ رویہ پرستاری کی بنا پر ہے، وہ پیروی کی بنا پر نہیں۔ اسلام میں" اکابر کی کوئی کیٹگری نہیں۔ تاہم اگر کوئی شخص کچھ افراد کو اکابر کا درجہ تب بھی، اسلام کے مطابق، ان کی صرف پیروی جائز ہوگی، ان کی پرستاری کے لیے اسلام میں کوئی جواز نہیں۔ لوگ اکابر کے پرستار ہیں، اسی لیے وہ اکابر کی تنقید پر غصہ ہوتے ہیں۔ اگر وہ اکابر کے پیرو ہوتے تو ہر گز ایسا نہ ہوتا کہ وہ اکابر کی تنقید پر بھڑک اٹھیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues