Al-Risala · February 1994 · page 5

یہو یا پرستار

الرسالہ، فروری ۱۹۹۴، صفحہ ۵

خبر نامہ اسلامی مرکز ۹۲

مسٹر یشونت دیش مکھ نے "لکھنؤ فیچرس" کے لئے ۱۰ ستمبر ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ یہ بہت تفصیلی انٹرویو تھا۔ اس کا تعلق زیادہ تر ہندو مسلم مسائل اور انڈیا کے مستقبل سے تھا۔ یہ انٹرویو ہندی اخبار راشٹریہ سہارا کے شمارہ ۸ اکتوبر ۱۹۹۰ میں چھپا ہے۔ رپورٹوں سے معلوم ہوتا ہے کہ الرسالہ مشن کے ساتھی بے معنی اور سطحی مخالفتوں کے باوجود ہر جگہ مشن کا تعمیری کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مثلاً شانتی یاترا کے دوران ۱۹ دسمبر ۱۹۹۲ کو کچھ گھنٹے ناندیڑ میں گزارنے کا موقع ملا۔ یہاں حلقہ الرسالہ سے عمومی ملاقات نہ ہوسکی۔ تاہم کرفیو کے باوجود جناب جمال الدین صدیقی خطیب اور جناب محمد زین الدین قاضی ہوٹل میں آکر ملے۔ وہ الرسالہ مشن سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے ذریعہ مقامی حالات معلوم ہوئے۔ اللہ کے فضل سے وہ اور ان کے ساتھی کچھ لوگوں کی مخالفت کے باوجود الرسالہ مشن کے کام کو سرگرمی کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ اللہ کی توفیق سے انھوں نے اپنی زندگیاں اس دینی مشن میں پوری طرح لگا دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اور تمام کارکنوں کی ہر طرح مدد فرمائے۔ اورنگ آباد کی ایک تعلیمی اور رفاہی تنظیم " اورنگ آباد پیس ایسوسی ایشن " کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اورنگ آباد کا سفر کیا۔ ۴-۵ ستمبر ۱۹۳۹ کو وہاں چند پروگرام ہوئے جس میں خطاب کا موقع ملا۔ ۵ ستمبر کی شام کو " اسلام دین رحمت " کے موضوع پر تقریر کی۔ اس میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، ہر مذہب کے لوگ بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس سفر کی روداد انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔

ہندی اخبار نو بھارت ٹائمس کے نمائندہ مسٹر اسرار خاں نے ۱۳ ستمبر ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلم لیڈر شپ اور مسلم سیاست سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ مسلمانوں کا مستقبل خود مسلمانوں کے اپنے عمل پر موقوف ہے۔ نہ کہ کسی ایک یا دوسری پارٹی کے رویہ پر۔

انگریزی روزنامہ پائیر کے نمائندہ مسٹر اعجاز احمد نے ۵ اکتوبر ۱۹۹۳ کو صدر اسلامی مرکز

‹ Previous page Next page › Contents of February 1994 All issues

Printed page